شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 523 of 670

شیطان کے چیلے — Page 523

519 میں یہ واقعات بڑی تفصیل سے درج ہیں۔اسی طرح ” مکتبہ عالیہ ایک روڈ لاہور کی شائع کردہ کتاب” وطن کے پاسباں میں اسلام کے ان پاکستانی احمدی بہادروں کے شجاعت و جوانمردی کے کارنامے مذکور ہیں جوا یک احمدی کے جذبہ حب الوطنی اور وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔بہر حال جنگ 16 فروری 1983 ء یہ بتا رہا ہے کہ ہندوستان کو جنرل اختر حسین ملک سے ایسا شدید خطرہ تھا کہ وزیر اعظم شاستری نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو خود حکم دیا کہ میجر جنرل اختر ملک کسی صورت میں بھی بچنے نہ پائے۔یہ تو بہت پرانا اخبار نہیں ہے صرف چند سال پہلے کا اخبار ہے۔شورش کا شمیری جس نے ساری زندگی جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ضائع کی اس کے دل کا حال سنئے۔جب احمدی لڑتا ہے میدان میں جا کر اسلام کے لئے ، یا مسلمانوں کے لئے یا اپنے وطن کے لئے تو اتنا پیارا لگتا ہے اور ایسا نمایاں ہوتا ہے اس میدان میں کہ دشمن بھی اس وقت واہ واہ کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں۔بعد میں وہ بے شک گالیاں دیتے رہیں لیکن جو دل کی آواز ہے ، جو صداقت کا کلام ہے وہ تو دل سے بے اختیار نکل آتا ہے۔تو شورش کا شمیری نے اس وقت جب جنرل اختر ملک کے کارنامے دیکھے تو وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا۔دہلی کی سرزمین نے پکارا ہے ساتھیو اختر ملک کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلو ذوالفقار چلاتے چلو گنگا کی وادیوں کو بتا دو کہ ہم ہیں کون جمنا چٹان لاہور 13 ستمبر 1965ء) جب میدان کارزار گرم تھا اس وقت شورش کا شمیری کو اور کوئی جرنیل نظر نہیں آیا جس کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلنے کا کہتا۔جس کو دہلی کی زمین نے پکارا یہ احمدی ماں کا بیٹا، یہ احمدی سپوت تھا جو اس وقت اس معاندِ احمدیت کو میدانِ کارزار میں نظر آ رہا تھا۔جنرل عبد العلی ملک بھی ایک احمدی جانباز مجاہد تھے اور ملک و قوم کے نامور ہیرو تھے جب سارے چونڈہ کو خطرہ تھا چونڈہ ہی کو نہیں سارے سیکٹر کو زبر دست خطرہ لاحق تھا۔اور ان کے بالا جرنیل ان کو حکم دے رہے تھے کہ تم کسی صورت دفاع نہیں کر سکتے پیچھے ہٹ جاؤ مگر یہی احمدی جنرل عبدالعلی ملک تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو پھر پاکستانی افواج کو راولپنڈی تک کوئی پناہ نہیں ملے گی۔اس لئے اگر مرنا