شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 522 of 670

شیطان کے چیلے — Page 522

518 ” آپ کی بٹالین زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے رضا کاروں پر مشتمل تھی اس میں نوجوان، کسان ،طلبہ،استاد اور کاروباری لوگ سب کے سب پاکستان کے جذبہ سے سرشار تھے۔آپ نے رضا کارانہ طور پر بے لوث جان کی قربانی پیش کی کوئی معاوضہ طلب نہ کیا اور نہ ی کسی شہرت کی تمنا کی۔کشمیر میں ایک اہم محاذ آپ کے سپرد کیا گیا تھا۔ہمیں آپ پر جو اعتماد تھا اسے آپ نے بہت جلد پورا کر دکھایا۔جنگ میں دشمن کی بہت بھاری بری اور ہوائی طاقت کے مقابل پر آپ نے اپنی زمین کا ایک انچ بھی دیئے بغیر اپنی ذمہ داری کو احسن طور پر نبھایا۔“ مملکت اسلامیہ پاکستان کا دفاع جنرل اختر حسین ملک مسلح افواج پاکستان کے عظیم جرنیل تھے اور ملک وقوم کے فاتح ہیرو تھے۔ان کی جوانمردی اور شجاعت و جانبازی کا ذکر پاکستان کے اخبارات میں بڑی کثرت سے اور فخر سے کیا گیا۔اسی طرح جنرل (ریٹائرڈ) سرفراز خان ہلال جرات جو افواج پاکستان میں ایک بڑا مقام رکھتے تھے۔اپنی یاداشتوں کی بناء پر پاکستان اور ہندوستان کی جنگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبار ” جنگ“ لاہور 6 ستمبر 1984ءصفحہ 3 کالم 7،6 میں لکھتے ہیں: ” جس ہنر مندی سے اختر ملک نے چھمب پر اٹیک کیا، اسے شاندار فتح کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔وہ اس پوزیشن میں تھے کہ آگے بڑھ کر جوڑیاں پر قبضہ کر لیں کیونکہ چھمب کے بعد دشمن کے قدم اکھڑ چکے تھے اور وہ جوڑیاں خالی کرنے کے لئے فقط پاکستانی فوج کے آگے بڑھنے کے انتظار میں تھے۔مگر ایسے نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ پکی پکائی پر سیکی خان کو بٹھانے اور کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھنے کا پلان بن چکا تھا۔لیکن نقصان کس کا ہوا بھارت کو مکمل شکست دینے کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔“ یہ ہیں احمدی غذار ! اور جنگ 16 فروری 1983 ء نے اپنے ذرائع سے یہ خبر دی ہے۔اور اس موضوع پر پاکستان کے مختلف اخباروں میں جو کچھ شائع ہوتا رہا ہے طوالت کے ڈر سے وہ سب کچھ پیش نہیں کیا جارہا۔بس مختصراً دو چار اخباروں وغیرہ کا نام درج کیا جارہا ہے۔اخبار ” جنگ لاہور 10 ستمبر 1984ء ماہنامہ ” حکایت اپریل 1973 ء، رسالہ ” الفتح 20 فروری 1976ء ، اخبار ” جنگ 12 اپریل 1983ء 56