شیطان کے چیلے — Page 500
496 قرار دیا۔یعنی آپ کا زمانہ۔پھر آپ کے بعد آنے والوں کی نسل پھر اس سے اگلے آنے والوں کی نسل یہ تین زمانے ہیں جو روشنی کے زمانے ہیں اور خیر القرون کہلاتے ہیں۔اس کے بعد پھر اندھیرا پھیلنا شروع ہو جائے گا۔یہ حوالہ آگے چلتا ہے لکھا ہے: وو جو غلبہ خیر کا وقت تھا ان لوگوں میں سے جس طرف مجمع کثیر ہو وہ مراد ہے نہ کہ ثم يفشـــو الکذب کا زمانہ یہ جملہ ہی بتا رہا ہے کہ خیر القرون کے بعد شر میں کثرت ہوگی۔“ یعنی خیر القرون سے وہ زمانہ مراد نہیں جو آنحضرت ﷺ کے اپنے الفاظ کے مطابق جھوٹ کی اشاعت کا زمانہ ہے۔بڑی عمدہ اور پختہ بات ہے۔اس کے خلاف کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔سواد اعظم کے متعلق خود حضور اکرم نے فرمایا لیکن ساتھ یہ بھی تو فرما دیا کہ خیر القرون تین زمانے ہیں یا تین نسلوں کا نام ہے اس کے بعد کذب کی اشاعت شروع ہو جائے گی اور اندھیرا پھیل جائے گا۔اس زمانہ کو حضور اکرم نے خیر القرون نہیں فرمایا۔اس لئے جو زمانہ خیر القرون نہیں ہے بلکہ جھوٹ کی کثرت کا زمانہ ہے۔اس کو اعظم کہہ دینا اور اس سے شرعی استنباط کرنا بالکل بے بنیاد بات ہے۔پھر مولوی صاحب لکھتے ہیں: ” مجھے تو یہ بات بہت ہی پسند آئی ہے۔واقعی کام کی بات ہے۔“ سوادا ناجی فرقہ کی پیشگوئی یہ ہے تو کام کی بات لیکن ہمارے کام کی بات ہے، آپ کے کام کی بات نہیں ہے۔جس کو حضور اکرم ﷺ اشاعت کذب کا زمانہ قرار دیتے ہیں اس کے متعلق بھی سن لیجئے کہ اس زمانہ کی اکثریت کے کیا حالات ہوں گے : وو " عن عبدالله بن عمرو رضی الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليا تين على امتى ما اتى على بنى اسرائيل حذو النعل بالنعل حتى ان كان منهم من اتى امه علانية لكان فى امتى من يصنع ذلك وان بنى اسرائيل تفرّقت على ثنتين وسبعين ملةً وتفترق امتى على ثلاث وسبعين ملّةً كلّهم في النار الا ملةً واحدةً قالوا من هي يا رسول الله ! قال ما انا عليه واصحابی۔“ ( ترندی۔ابواب الایمان - باب افتراق هذ الامة ) ترجمہ :۔حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات