شیطان کے چیلے — Page 28
28 یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عز وجل ان کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ ان کے ظالم ہونے کے حجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔سورۃ النمل الجز و نمبر 20۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابتہ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابتہ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیٹروں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو۔ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہوسکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں اور اس بیان پر کہ دابتہ الارض در حقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں۔(1) اول یہ کہ دابتہ الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَةٌ مِّنَ الْأَرْضِ یعنی جب ان پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حجت پوری ہو جائے گی تب دابتہ الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔اب ظاہر ہے کہ دابتہ الارض عذاب کے موقع پر زمین سے نکالا جائے گا نہ یہ کہ یوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہوگا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابتہ الارض لغوی معنوں کے رو سے ایک کیڑا ہونا چاہئے جو زمین میں سے نکلے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکا لگانے کے لئے وہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور ان کا عرق نکالا جاتا ہے اور خوردبین سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی شکل یوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ۔گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں۔(۲) دوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرتب لفظ آیا ہے اس سے مراد کیٹر الیا گیا ہے مثلا یہ آیت فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ المَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَانَہ یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا