شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 441 of 670

شیطان کے چیلے — Page 441

439 لوگوں کی ریاستیں ان کے مرنے کے ساتھ جاتی رہیں اور ہمارے لئے دوستی کی وہ ریاست ہے جو قابل زوال نہیں۔نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 54،53) آٹھ شعروں پر مشتمل اس نظم میں نہ راشد علی اور اس کے پیر کا ذکر ہے نہ کسی اور مولوی کا اور نہ ہی اس میں مسلمانوں کے کسی بھی طبقہ کا ذکر ہے۔راشد علی اور اس کے پیر نے اس نظم کے پانچویں شعر کو ہدف اعتراض بنایا ہے جس کی تشریح شعر نمبر 4 کرتا ہے۔لیکن اس شعر کو وہ عملاً چھپا گئے ہیں۔کیونکہ اس میں گالیاں دینے والوں کا ذکر ہے اور اس محبوب کا ذکر ہے جس کو گالیاں دی گئیں۔اس شعر میں مسلمانوں کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے کیونکہ وہ محبوب خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ کوگالیاں نہیں دے سکتے۔ہاں راشد علی اور اس کا پیرا اگر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں اور دشمنان رسول میں شامل ہیں تو پھر وہ بھی لازماً اس شعر کی زد میں آتے ہیں۔ایسی صورت میں اس پر نہ ہمیں کوئی تر ڈر ہے نہ انہیں کوئی اعتراض ہونا چاہئے۔لیکن مسلمانوں کو اس شعر کا مصداق بنانے کا انہیں کوئی حق نہیں۔جہاں تک اس شعر کی تشریح کا تعلق ہے وہ ہمیں کتاب ” نجم الہدی میں کھلے کھلے لفظوں میں جابجا ملتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ شعر زیر بحث میں مذکور اعداء مسلمانوں میں سے نہیں تھے بلکہ عیسائیوں میں سے صلى الله تھے۔اور ان کی دشمنی کا ہدف آنحضرت ﷺ ، اسلام اور مسلمان تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: علوسام وكل احد من القسوس طعن في ديننا وما الا وسب نبينا وشتم وقذف وقلا - - وتجدونهم في عقيدتهم متصلبين ومن التعصب متلهبين وعلى جهلاتهم متفقين ـ وقد صنفوا في اقرب مدة كتبا زهاء مائة الف نسخة ـ وما تجدون فيها الا توهين الاسلام وبهتانا وتهمة ـ وملئت كلها من عذرة لانستطيع ان ننظر اليها نظرة ـ “ ترجمہ:۔اور پادریوں نے ہمارے دین کی نسبت کوئی دقیقہ طعن کا اٹھا نہیں رکھا۔اور ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دیں اور بہتان لگائے اور دشمنی کی او تم دیکھتے ہو کہ وہ اپنے عقیدے میں کیسے سخت ہو گئے ہیں اور کیسے تعصب سے افر دختہ ہیں اور اپنی باطل باتوں پر کیسے اتفاق کئے بیٹھے ہیں۔اور تھوڑی مدت سے ایک لا کھ کتاب انہوں نے ایسی تالیف کی ہے جس میں ہمارے دین اور رسول اللہ ﷺ کی نسبت بجز گالیوں اور بہتان اور