شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 425 of 670

شیطان کے چیلے — Page 425

423 قرار دینے کا نعوذ باللہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ حاجی امداداللہ مہاجر کی فرمایا کرتے تھے : یہ فقیر جہاں رہے گا وہیں مکہ اور مدینہ اور روضہ ہے“ (خیر الافادات ( ملفوظات مولانا اشرف علی تھانوی) ناشر ادارہ اسلامیات لاہور۔اگست 1982ء) اسی طرح شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مولوی رشید احمد گنگوہی کے مرثیہ میں کہا: پھریں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ جو رکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق وشوق عرفانی تمہاری تربت انور کو دیگر طور سے تشبیہ کہوں میں بار بار آرنی، میری دیکھی بھی نادانی اب بتائیں ،سادہ اہل اسلام کو اشتعال دلانے والے خصوصاً وہ جو دیو بندی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نہایت محترم بزرگ کے یہ الفاظ ہیں۔ان پر آپ کو کفر کا فتوی کیوں یاد نہیں رہا اور کیوں ان کے خلاف اور ان کو ماننے والے سب دیو بندیوں کے خلاف آگ بھڑ کانے کا خیال نہیں آیا۔یہ الفاظ تو بہت ہی خطرناک ہیں جو دیو بندیوں کے نہایت محترم بزرگوں نے بڑے طمطراق سے بیان کئے ہیں۔حقیقت میں اگر گستاخی کی گئی ہے تو یہ ہے کہ باہر کی بستیاں ملکہ سے برکات حاصل نہیں کر رہیں۔بلکہ مکہ کی مقدس گلیوں میں، جو ہمارے مقدس آقا و مولیٰ محبوب کبریا حضرت محمد مصطفی ہے کے مبارک قدم چوما کرتی تھیں، مذکور مولانا صاحب کے نزدیک اہل ایمان کو اس وقت تک چین نہیں آ سکتا جب تک گنگوہ کا رستہ نہ پوچھ لیں۔یعنی مکہ اور بیت اللہ قبلہ نما ہیں تو قبلہ گنگوہ کا قصبہ بن گیا۔(نعوذ باللہ ) علامہ اقبال کو راشد علی مذہبی معاملات میں سند مانتا ہے۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔علامہ اقبال نے ہندوستان کے متعلق لکھا: دو گوتم کا جو وطن ہے جاپان کا حرم ہے عیسی کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے ( باقیات اقبال صفحہ 328۔ناشر آئینہ ادب چوک مینار۔انارکلی لاہور۔طبع دوم 1947ء) حضور بابا فرید الدین گنج شکر مسعود العلمین نے فرمایا کہ درویش کو ستر ہزار مقامات طے کرنے پڑتے ہیں ان سے پہلے ہی مقام پر درویش کے لئے یہ