شیطان کے چیلے — Page 424
422 پس اس صورت میں آخری صورت یہی بنے گی کہ احمدیوں کا یقینا کوئی اور کلمہ نہیں جیسا کہ ہم یقین کرتے ہیں اور ہمارے مخالفین بھی یہی تسلیم کرتے ہیں۔مصنف کتاب ” کلمۃ الفصل“ کی اس تحریر سے متعلق جسے انتہائی بھیا نک کلمہ کفر کے طور پر راشد علی پیش کر رہا ہے ، ہم قارئین پر خوب اچھی طرح واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ راشد علی نے جو معنے اس تحریر کو پہنانے کی کوشش کی ہے، سراسر ظلم ہے، افتراء ہے اور جھوٹ ہے۔(6) سرز مین قادیان ارض حرم راشد علی نے ” متوازی امت“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے قادیان کی سرزمین ارض حرم کہلائی۔(اخبار الفضل جلد 3 نمبر 11 مورخہ 18 جولائی 1915ء) یہ مفہوم غالبا راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک شعر سے اخذ کیا ہے اور اسے اندھا دھند متوازی امت کے قیام کے ثبوت کے طور پر پیش کر دیا ہے۔اگر کوئی تعصب کے زہر سے بھری نظر سے دیکھے تو اس سے ہماری بحث نہیں لیکن عام شریف النفس انسان سمجھ سکتا ہے کہ قادیان کے بارہ میں جو الفاظ ہیں ان سے بہت زیادہ قوت سے حضرت صوفی کامل خواجہ غلام فرید علیہ الرحمۃ کے موطن چاچڑاں شریف کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ ان کے ایک مرید نے جو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا وہ آج سرائیکی علاقہ میں زبان زدعام ہے کہ چاچڑ وانگ مدینہ ڈسے کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچہ یار فرید باطن دے وچ اللہ اس ذکر کو نہ اس وقت کسی نے محل اعتراض سمجھا نہ اب سمجھا جا سکتا ہے۔ہر معقول آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں تبر کا بیان کی جاتی ہیں اور یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ مکہ ومدینہ پر خدا تعالیٰ کا نور برستا ہے تو ان کے طفیل ان بستیوں پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں ان بستیوں کو مکہ ومدینہ کے ہم مرتبہ