شیطان کے چیلے — Page 398
396 میں مفصل دے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر بھی اس کے جھوٹے الزام کا منہ توڑ جواب ہے اور آپ کی دنیا سے بے رغبتی اور بے زاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔(ناقل) دل کو اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ باتیں میرے پر کھولیں جو کسی پر نہیں کھل سکتیں۔جب تک اس پاک گروہ میں داخل نہ کیا جائے جن کو دنیا نہیں پہچانتی۔کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور اور دنیا ان سے دور ہے۔اس نے میرے ہے۔اس۔پر ظاہر کیا کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا ہے جس کی مانند ور کوئی نہیں۔اور اس نے مجھے اپنے تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 271 272) مکالمہ کا شرف بخشا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے مامور فرمایا تو وہی آپ کی پشت پناہی کرنے والا تھا اور وہی اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا جس کی مانند اور کوئی نہیں آپ پر کرم نوازیاں کرتا تھا۔آپ فرماتے ہیں۔جو کچھ مری مراد تھی کچھ دکھا دیا دیا میں اک غریب تھا مجھے انتہا اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات وکرم جن کا مشکل که تا روز قیامت ہو شمار ہے (2) ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ نئی امت رجسٹر کرائی 1891ء میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے نام سے اپنی اس امت کو انگریز سرکار میں رجسٹر کرایا۔“ ( بے لگام کتاب ) اس میں اعتراض کا نا معلوم کونسا پہلو ہے جو راشد علی اور اس کے پیر کو سجھائی دیا ہے۔کسی حکومت میں کسی کا رجسٹر ہونا اگر قابل اعتراض ہے تو ساری دنیا میں مسلمانوں کی سب تنظیمیں اس اعتراض کے نیچے آتی ہیں۔خصوصاً سندھ میں بیت المکرم ٹرسٹ بھی اسی اعتراض کے نیچے آتا ہے اگر وہ رجسٹر ڈ ہے۔اگر نہیں