شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 396 of 670

شیطان کے چیلے — Page 396

394 انگریزی کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ الاقتصاد فی مسائل الجہاد فارسی زبان میں تصنیف فرمایا تھا اور مختلف زبانوں میں اس کے تراجم بھی شائع کرائے تھے۔معتبر اور ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ اس کے معاوضے میں سرکا رانگریزی سے انہیں جاگیریں بھی ملی تھیں۔یہ صرف معتبر اور ثقہ راویوں کا بیان ہی نہیں خود مولوی صاحب لکھتے ہیں: اراضی جو خدا تعالیٰ نے گورنمنٹ سے مجھے دلوائی چار مربع ہے۔“ ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک۔صفحہ 29) اشاعۃ السنہ صفحہ 1 نمبر 1 جلد 19 - مطبع ریاض ہند امرتسر ) پشت پناہی اور کرم نوازیاں تو یہ تھیں جو انگریز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین کی کرتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معاملہ کلیہ اس کے برعکس تھا۔آپ کے نام نہ انگریز نے کوئی جاگیر لگائی نہ جائیداد اور نہ ہی کسی قسم کی مالی معاونت کی۔امر واقع یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباء صاحب ریاست جاگیردار تھے مگر یہ ریاست اور جاگیران سے آہستہ آہستہ چھن گئی۔اس صورتحال کو بھی آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت سمجھتے تھے جو اس کی حکیمانہ تقدیر کے تحت آپ کو ملی۔چنانچہ ملکہ وکٹوریہ کو آپ نے جو خط رسالہ " تحفہ قیصریہ“ کے نام سے بھیجا اس میں خدا تعالیٰ کی اس پر حکمت تقدیر کو اجاگر کر کے بیان کیا تا کہ کسی بھی رنگ میں یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ آپ کسی انعام واکرام اور جا گیر وریاست کی تمنا رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ کا خط جو ملکہ وکٹوریہ کو عیسائیت چھوڑنے اور شہنشاہ دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں آنے کی کھلی کھلی دعوت پر مشتمل تھا، کسی چاپلوس اور مصلحت پسند انسان کی حریصانہ کوشش نہ سمجھا جائے۔چنانچہ آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنے آباء کی ریاست کے زوال کی تفصیل بیان کی اور پھر لکھا کہ وو غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے۔یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہوگئی۔بظاہر یہ بات بہت غم دلانے والی ہے کہ ہم اول کیا تھے۔اور پھر کیا ہو گئے۔لیکن جب میں سوچتا ہوں تو یہ حالت نہایت قابل شکر معلوم ہوتی ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے ان ابتلاؤں سے بچالیا کہ جو دولتمندی کے لازمی نتائج ہیں۔جن کو