شیطان کے چیلے — Page 393
391 ان مذکورہ بالا تاریخی ریکارڈ اور حقائق سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انگریز کے خود کاشتہ پودے کون کون تھے۔اس کے برعکس جماعت احمدیہ ایسی جماعت ہے جس کی نہ تو کبھی انگریزی یا کسی اور دنیوی حکومت نے سر پرستی کی اور نہ ہی کبھی اس کے مالی مفادات کسی سے وابستہ ہوئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کو نہ کسی ماڈی سر پرستی کی حاجت ہے نہ مالی استمداد کی، کیونکہ یہ صرف اور صرف خدائے قادر مطلق کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دسمبر 1896 ءکو ایک اشتہار میں اعلان فرمایا: ’ اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینوں ! یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے۔خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچاوے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہتا۔“ ( مجموعہ اشتہارات - جلد 2 صفحہ 281 282) نیز آپ نے یہ پر تحر ی اعلان بھی فرمایا کہ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔۔۔۔۔۔اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جا ئیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔۔۔۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔۔۔جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا کے مامورین کے آنے کے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے بھی ایک موسم۔پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔خدا سے مت لڑو! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 13 ،14)