شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 392 of 670

شیطان کے چیلے — Page 392

ہی پروان چڑھایا۔66 390 (طوفان۔7 نومبر 1962ء) دیکھیں تاریخ کس طرح ثبوت مہیا کرتی ہے۔دیو بندی فرقہ کے تعلیمی مذہبی ادارہ ندوۃ العلماء کی بنیاد ہی انگریزوں نے رکھی تھی۔چنانچہ اس ادارہ کے اپنے رسالہ ”الند وہ نے یہ تاریخی شہادت قلمبند کی کہ ” 28 نومبر 1908ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگ بنیاد ہر آنریبل لیفٹیننٹ گورنر بہا در ممالک دو متحد ہ سر جان سکاٹ ہیوس کے سی آئی ای نے رکھا۔“ اسی صفحہ پر آگے یہ بھی لکھا ہے کہ وو یہ مشہور مذہبی درسگاہ ایک انگریز کی مرہونِ منت ہے۔“ التد وہ۔دسمبر 1908 ء صفحہ 4) یہی نہیں اس کے قیام کی غرض و غایت اس کا مقصد اور مائو یہ بھی بیان کیا کہ اس میں تیار ہونے والے علماء کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکات حکومت سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں۔“ ( الند وہ۔جولائی 1908ء) اسے کہتے ہیں انگریز کا خود کاشتہ پودہ۔جس کی کاشت بھی انگریز نے کی اور آبیاری بھی۔اور جب اسے پروان چڑھا چکے تو اس پودے پر برکات حکومت سے واقفیت اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلانے کے پھل ہر موسم میں بکثرت لگتے رہے۔اس خود کاشتہ پودے کی نظر ہمیشہ مالی مفادات پر رہی اور اس کا کاسہ گدائی بھی انگریز کی طرف پھیلا رہا۔جہانتک اس دیو بندی فرقہ کی ایک تنظیم مجلس احرار کا تعلق ہے جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔اس تنظیم کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس کے ایک بہت بڑے لیڈر مولانا ظفر علی خان، مدیر روز نامہ زمیندار لکھتے ہیں: وو۔۔۔آج ” مسجد شہید گنج کے مسئلہ میں احرار کی روش پر دوسرے مسلمانوں کی طرف سے اعتراض ہونے پر انگریزی حکومت احرار کی سپر بن رہی ہے۔اور حکومت کے اعلیٰ افسر حکم دیتے ہیں کہ احرار کے جلسوں میں گڑ بڑ پیدا نہ کی جائے۔تو کیا اس بدیہی الانتاج منطقی شکل سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجلس احرار حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے۔جس کی آبیاری کرنا اور جسے صرصر حوادث سے بچانا حکومت اپنے ذمہ ہمت پر فرض سمجھتی ہے۔(روز نامه زمیندا‘ 13 اگست 1935ء)