شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 366 of 670

شیطان کے چیلے — Page 366

364 مولوی ابوالاعلی مودودی اور علامہ اقبال وغیر ہم قابل ذکر ہیں۔جو برطانوی حکومت کو ماں سے بڑھ کر شفیق ، اسلامی سلطنتوں سے بڑھ کر فخر کا محل ، اور ایک غنیمت قرار دیتے تھے اور اس کے باغی کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔وہ بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہا دینے کے لئے تیار تھے۔اس کے آگے فرط عقیدت سے ان کا سر جھکا ہوا تھا۔وہ اس کی نگاہ فیض اثر کے ملتجی تھے اور اسے اپنے دلی جذبات کے ساتھ سایہ خدا قرار دیتے تھے۔الغرض اس قسم کی وفادار قوم اور خوشامدی لیڈروں کے ہوتے ہوئے انگریز کو کسی اور چال کی بہر حال ضرورت نہیں تھی۔جہاں تک جہاد کی صورت میں مزاحمت کا تعلق ہے تو انگریز تو 1857ء کے غدر میں باغی مسلمانوں کو پوری طرح شکست دے چکا تھا۔اس کے بعد اس کی راہ میں تو مزاحمت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ویسے بھی مکہ مکرمہ کے بڑے بڑے مفتیوں سے لے کر برصغیر کے چھوٹے چھوٹے علماء تک جہاد کے حرام ہونے اور اس کی دل و جان سے اطاعت کے شرعی فتوے دے چکے تھے۔اس صورتحال میں اسے کسی ایسی کارروائی کی ضرورت نہیں تھی جو راشد علی کے شیطان نے یا اس کے آقاؤں نے اختراع کی ہے۔علاوہ ازیں ایک ادنی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر انگریز نے کسی کو کھڑا کرنا تھا تو کسی بڑے پیر اور گڈی نشین کو کھڑا کرتا جس کے لاکھوں مرید اس کے ہمنوا موجود ہوتے۔یہ اس نے کیا کیا کہ ایسے شخص کو کھڑا کیا جو نہ ڈگری یافتہ تھا اور نہ وہ کسی بڑے اور مرکزی شہر میں آباد عوام سے رابطہ رکھ سکتا تھا۔اس نے ایک غیر مشہور اور زاویہ خمول میں مستور شخص سے دعویٰ نبوت کرایا اور اس سے وفات مسیح کا اعلان کرا کے مسیح موعود ہونے کا مدعی بنایا کہ جسے اکثریت قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھی۔آخر انگر یز مد برین را شد علی جیسے بیوقوف تو نہیں تھے کہ ان کے منصوبے ایسے غیر معقول ہوتے ؟ اگر تو ہندوستان کے مسلمان امتی نبی پیدا ہونے کا عقیدہ رکھتے ، وفات مسیح کے قائل اور امت میں مثیل مسیح کے پیدا ہونے کے منتظر ہوتے تو پھر تو یہ سکیم شاید کامیاب بھی ہوتی اور قابلِ عذر بھی ! پس قطعی شواہد اور تاریخی دستاویزات سے یہ الم نشرح ہے کہ راشد علی اور اس کے ہم مشرب ایک نامعقول جعلی اور جھوٹی رپورٹ پر تکیہ کر کے اپنے مکذب ہونے کا کھلا کھلا ثبوت پیش کر چکے ہیں۔ان کا یہ