شیطان کے چیلے — Page 362
360 اپنی ” بے لگام کتاب میں یہ 1870ء کی رپورٹ بتائی ہے جبکہ فولڈر "۔۔۔Beware " میں اس کا سال 1868ء بتایا ہے۔اس قطعی جھوٹ کی قلعی تو صرف اسی ایک ثبوت سے ہی کھل جاتی ہے۔لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ اس جعلی اور جھوٹی رپورٹ کا سطح ارض پر وجود ہی کوئی نہیں۔تو آئیے اب اس رپورٹ کا کچھ اندرونی تجزیہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔1۔اس نام نہادر پورٹ کا عنوان ہی اسے جھوٹا اور جعلی ثابت کرتا ہے کیونکہ اس کا عنوان ان جھوٹوں نے خود یہ رکھا ہے۔"The arrival of British Empire in India" یہ اختراع کرنے والوں کو یہ بھی علم نہیں کہ برٹش ایمپائر تو حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام سے بیسیوں سال پہلے برصغیر میں پوری طرح قائم ہو چکی تھی۔وہ 1868ء میں برٹش MPs ، جرنلسٹس اور چرچ کے نمائندوں کے وہاں جانے اور اپنی تجزیاتی رپورٹ پیش کرنے کی وجہ سے وہاں قائم نہیں ہوئی تھی۔۔اس جعلی رپورٹ کی عبارت کا تجزیہ کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ انگریز کی بنائی ہوئی رپورٹ ہی نہیں ہے بلکہ کسی دیسی جھوٹے کی اختراع ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں جو Apostolic Prophet کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس کا انگریزی میں وجود ہی کوئی نہیں۔عربی یا اردو اصطلاح کا ترجمہ کرنے کی یہ ایک ایسی کوشش ہے جو خود اس کے جعلی ہونے کا راز افشاء کر رہی ہے۔راشد علی نے اس رپورٹ کے حوالہ کے طور پر آغا شورش کاشمیری کی کتاب کا نام لکھا ہے۔شورش کاشمیری نے جعلسازی کی شاہکار یہ رپورٹ کہاں سے پکڑی ؟ اس کا راشد علی کو علم نہیں۔چونکہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا ضروری ہے اس لئے ہم اسے بتاتے ہیں کہ اس رپورٹ نے جنم کہاں لیا۔اصل واقعہ یہ ہے کہ اس جعلی رپورٹ کی اختراع 1967ء میں جمعیۃ العلماء اسلام سرگودہانے کی اور خالد پر لیس سرگودہا سے اسے طبع کرایا گیا۔یہ کوئی 1868 ء یا 1870ء کی بات نہیں بلکہ پورے سوسال بعد 1967ء کی بات ہے جب یہ جعلی اور خود تراشیدہ رپورٹ سرگودہا میں جمعیۃ العلماء اسلام نے افتراء اور شائع کی۔اس جھوٹی اور مفتریا نہ رپورٹ کو پھر 1973 ء میں شورش کا شمیری نے اپنی کتاب ” عجمی اسرائیل میں