شیطان کے چیلے — Page 356
354 کے لئے اپنی طرف متوجہ فرمایا ہے۔لیکن یہاں اس تفصیل میں جائے بغیر ہم آپ کی خدمت میں صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اس پیر اور مرید نے محض فتنہ اور فساد کی غرض سے اسے جذباتی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔بحث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں۔بحث اس موعود مسیح و مہدی کے مقام کی ہے جس کے بارہ میں یہ پیر اور مرید اور ان کے بزرگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ سید الانبیاء ﷺ کا خلیفہ ہوگا اور نبی ہوگا۔جیسا کہ اس کتاب میں ہم یہ دوسری جگہ درج کر آئے ہیں۔پس خلیفتہ الرسول اور نبی اللہ سے کسی دوسرے کے مقام کا موازنہ کرنا اور اسے جذباتی مسئلہ بنانا ،فتنہ پیدا کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ اہل حدیث کے مشہور اور نامور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب پر حضرت امام محمد ابن سیرین کی یہ روایت درج کی ہے۔" تكون في هذه الامة خليفة خير من ابى بكر وعمر ، 66 نج الکرامہ فی آثار القیامہ - صفحہ 386 - مطبع شاہ جہان بھوپال) کہ اس امت میں ایک خلیفہ ایسا ہو گا جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سے بھی افضل ہوگا۔جہاں تک بزرگان سلف کا تعلق ہے آنے والے مہدی کے بارہ میں یہ بیان ان کے عقیدہ کی پوری عکاسی کرتا ہے۔چنانچہ حضرت امام عبدالرزاق قاشائی کی شرح میں حضرت پیرانِ پیر سید عبد القادر جیلانی کا یہ قول درج ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں: " المهدي الذي يجئي في آخر الزمان فانّه يكون في الاحكام الشرعية تابعاً لمحمد صلعم وفى المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والاولياء تابعين له كلّهم لانّ باطنه باطن محمد صلعم۔“ ( شرح فصوص الحکم صفحہ 43،42 مطبع مصطفی السبابی الحلمى مصر ) که امام مہدی علیہ السلام جو آخری زمانہ میں ہوں گے چونکہ وہ احکام شرعی میں آنحضرت ﷺ کے تابع ہوں گے۔اس لئے معارف اور علوم اور حقیقت میں تمام کے تمام ولی اور نبی اس کے تابع ہوں گے کیونکہ ان کا باطن آنحضرت ﷺ کا باطن ہوگا۔پس ہمارے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی مہدی برحق ہیں جن کی آمد کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی اس لئے ان کا وہی مقام ہے جو انہیں آنحضرت ﷺ نے عطا فرمایا اور