شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 351 of 670

شیطان کے چیلے — Page 351

349 ہے کہ ہنگامہ کربلا میں جو دشمنان سفاک نے حرم محترم اور زنانِ اہلِ بیت کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کیا کچھ غضب اور جوش آیا۔شیعوں کو تو شہادت نامہ کر بلا از بر ہی ہوگا۔لکھنے کی کیا حاجت۔“ ( ہدیۃ الشیعہ - صفحہ 127 از مولا نا محمد قاسم نا تو توی مطبوعہ مطبع احمدی دہلی ) ہمارا دل تو نہیں چاہتا کہ ایسی خوفناک عبارتوں کو دوہرائیں جن میں دیو بندی راہنماؤں نے اہل بیت کا بھنگیوں اور چماروں سے صرف موازنہ ہی نہیں کیا بلکہ ان کا حال ( نعوذ باللہ ) اس سے بھی بڑھ کر بڑا پیش کیا ہے۔لیکن راشد علی اور اس کے پیر کی بے باکیاں اور سفاکیاں ایسیسرکش ہیں کہ ان کی زبان کو لگام دینے کے لئے انہیں کے پیشواؤں اور راہنماؤں کی تیار کردہ باگیں ہی کام آ سکتی ہیں۔اس مذکورہ بالا عبارت میں ان کے پیشوا نے اہلِ بیت کے لئے جو بظاہر ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں ان کا عشر عشیر بھی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں نہیں پائیں گے۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ مولا نا محمد قاسم نانوتوی صاحب ایک بزرگ اور نیک انسان تھے۔انہوں نے حضرت علی اور حسنین رضی اللہ عنہم کے بارہ میں جو کچھ لکھا ہے۔ان غالی شیعوں کے خلاف علی سبیل الالزام لکھا ہے جو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی توہین کرتے ہیں۔اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عبارتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں سے سینکڑوں گنا سخت اور ترش ہیں۔راشد علی اور اس کے پیر صاحب !تم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے کر جو بے باکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کی ہے، اگر اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ واقعۂ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کے لئے غیرت رکھتے ہیں تو اب آپ پر فرض ہے کہ اپنی سرکش شعلہ فگن لمبی جیٹھ دیو بندیوں کے مقتداء و پیشوا مولا نا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دارالعلوم دیو بند پر بھی نکالیں۔ہم پورے یقین سے کہتے ہیں کہ آپ اہلِ بیت کی شان میں دیو بندیوں کے پیر ومرشد کی بظاہر گستاخ عبارت کو پڑھ کر ضرور اپنی جھوٹی غیرت کو سلا دیں گے اور ایک حرف بھی بولنے کی جرات نہ کریں گے کیونکہ آپ جھوٹے ہیں، آپ کی تحریریں جھوٹی ہیں اور آپ کے دعوے بنیادی طور پر جھوٹے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام بہت بلند تھا جس کی وجہ اللہ سے آپ کا دل ان کی محبت سے سرشار تھا۔چنانچہ آپ نے اپنی کتاب ”ستر الخلافہ“ میں ان کے اوصاف