شیطان کے چیلے — Page 350
348 دیر عیسی کے اترنے میں خدایا کیا ہے الحق الصریح في حياة اسبح صفحہ 133 مطبوعہ 1309 هـ از مولوی محمد بشیر بھوپالوی) اور اہل تشیع ان الفاظ میں اسے تڑپ تڑپ کر بلا رہے تھے کہ اب انتظار کرتے ہوئے تھک گئے ہیں ہم ڈھلنے لگا سایه دیوار آئے اب بھی جائیے میرے منتظر امام مدت منتظر ہیں عزادار آئے (رساله معارف اسلام صاحب الزمان نمبر 36 ) فطرت کی اسی آواز کی نشاندہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے اور اس شیعہ شخص کو مہدی و مسیح کی حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ اب وہ امام منتظر آچکا ہے اور اسے ہی قبول کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کی بیعت اور اطاعت کی تاکید بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔اسی اصول کے تحت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور اطاعت کی گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان کی اور آپ کے بعد حضرت علی کی۔پس زندہ خلیفہ کی موجودگی میں اس کو چھوڑ کر کسی وفات یافتہ خلیفہ کی خلافت کا مسئلہ چھیڑ نا خلاف اسلام ہے۔اسی وجہ سے مسلمانوں کا ہر مکتبہ فکر گذشتہ خلفائے راشدین کی بجائے نئے امام کے منتظر تھا۔پس وہ آواز جو فطرتی طور پر ہر مسلمان کی آواز میں موجود ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں تو راشد علی اور اس کا پیر چیخنے چلانے لگتے ہیں۔اس حقیقت حال کے بیان کے بعد کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ کی تو ہین نہیں کی ، ہم محض سمجھانے کی غرض سے دیو بندیوں کے مقتداء و پیشوا بانی مدرسہ دیو بند مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب کی ایک تحریر پیش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اہل ہند جو تمام ولایتوں کے لوگوں کے نامردے پن میں امام ہیں ان میں ان کا بھنگی اور چمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا جس طرح حضرت امیر نے اپنی دختر مطہر ہ کو حضرت عمر کے حوالے کر دیا۔آپ بھی دیکھتے رہے اور صاحبزادے بھی۔پھر صاحبزادوں میں بھی ایک وہ تھے کہ جنہوں نے تمہیں ہزار فوج جزار کا مقابلہ کیا حالانکہ وہ زمانہ ضعیفی اور تحمل کا تھا اور بہن کے نکاح کے وقت عین شباب تھا اور تسپر تماشہ یہ