شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 333 of 670

شیطان کے چیلے — Page 333

331 سے باز ہی نہیں آتے ہم سنتے سنتے تھک گئے۔“ فرمایا: ii۔(نورالقرآن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 375،374) ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع و شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔الخ (ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292 ،293 حاشیہ ) iii۔” اسی طرح اشتہار ” قابل توجہ ناظرین میں فرماتے ہیں: وو اس بات کو ناظرین یا درکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اس طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے۔اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی۔بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا۔اور پہلے نبیوں کو بٹمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی کا سخت مکذب تھا۔اور اس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہو کر خدائی کا دعوی کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے۔اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو سچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے۔پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں۔بلکہ وہ کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات - جلد 2 صفحہ 295 296 )