شیطان کے چیلے — Page 332
330 کوئی گندی گالی نہیں جو آپ کو نہیں دی۔ان کے اس گندے اور غلیظ حربے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کاری ضرب لگائی اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر پادری اب بھی اپنی پالیسی بدل دیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی۔ور نہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292 حاشیه در حاشیه ) 2۔جیسا کہ اوپر اجمالاً ذکر گذر چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس ذات کو عیسائیوں کے حملے روکنے کے لئے ڈھال بنایا وہ اناجیل کا یسوع اور اناجیل کا مسیح تھا۔جس پر عیسائیوں کے مسلمات کے مطابق اور انہیں کی اناجیل کے مطابق ایسے اعتراض اٹھتے ہیں جو رسول خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ پران کے حملوں کا براہ راست جواب ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس یسوع کو زیر بحث لائے جو عیسائیوں کا یسوع اور اناجیل کا مسیح ہے اس کا قرآن کریم میں بیان شدہ حقیقی عیسی مسیح ابن مریم سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وضاحتیں ملاحظہ فرمائیں۔آپ نے ایک اشتہار مورخہ 20 دسمبر 1895 ء کو شائع کیا جس میں یہ وضاحت فرمائی: i۔” ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔بعض نادان مولوی جن کو اندھے اور نا بینا کہنا چاہئے۔عیسائیوں کو معذور رکھتے ہیں کہ وہ بے چارے کچھ بھی منہ سے نہیں بولتے اور آنحضرت ﷺ کی کچھ بے ادبی نہیں کرتے۔لیکن یادر ہے کہ در حقیقت پادری صاحبان تحقیر اور تو ہین اور گالیاں دینے میں اول نمبر پر ہیں۔ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارات کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آ کر دیکھ لیوے اور یادر ہے کہ آئندہ جو پادری صاحب گالی دینے کے طریق کو چھوڑ کر ادب سے کلام کریں گے ہم بھی ان کے ساتھ ادب سے پیش آویں گے اب تو وہ اپنے یسوع پر آپ حملہ کر رہے ہیں۔کہ کسی طرح سب و شتم