شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 317 of 670

شیطان کے چیلے — Page 317

316 اور ایسا ہی حکم بروز ادریس علیہ السلام کا بنا مزد الیاس علیہ السلام کے۔اور نزول عیسی علیہ السلام کا ع آسمان سے اور یہ کبھی یہ سب غلبہ کسی ایک صفت کے ہوتا ہے۔اور کبھی بغل بہ جمیع صفات کمالیہ کے۔اس صورت میں کمال اتحاد مظہر کا بارز کے ساتھ ہوگا اور یہ قسم اعلیٰ مرتبہ بروز کا ہے۔“ ( خزائن اسرار الكلم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم۔صفحہ 47 مصنفہ شاہ محمد مبارک علی صاحب حیدر آبادی) ۴:۔امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " كمل تابعان انبياء عليهم الصلوۃ والتسلیمات بہت کمال متابعت وفرط محبت بلکہ محض عنایت و موهبت جمیع کمالات انبیاء متبوعه خود را جذب می نمایند و بکلیت برنگ ایشاں منصبغ می گردند حتی که فرق نمی ماند درمیان متبوعان و تابعان الا بالاصالت والتبيعة والاولية والاخرية ترجمہ :۔انبیاء علیهم السلام کے کامل متبح بہ سبب کمال متابعت محبت انہیں میں جذب ہو جاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا سوائے اوّل و آخر اور سوائے اصل اور تابع ہونے کے۔“ مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر 248 حصہ چہارم دفتر اول صفحہ 49 مطبوعه مجد دی پریس امرتسر ) یہ من و عن حضرت مجد دالف ثانی کی تحریر ہے۔اگر کوئی مفتریا نہ ذہنیت سے یہ تحریر پڑھے تو بھڑک اٹھے اور اول و آخر کے بارہ میں یہ کہے کہ محض زمانی ہے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں۔مجد دالف ثانی کی اس تحریر میں اوّل اوّل ہی ہے۔خواہ کوئی کتنی ہی مشابہت رکھے مگر مشابہت والا بعینہ اوّل کا ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا ہم صفات تو بن سکتا ہے ہم مرتبہ نہیں۔بہر حال راشد علی اور عبدالحفیظ کیونکہ ایسی ذہنیت رکھتے ہیں کہ اس قسم کی تحریرات پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ان پر لازم ہے کہ حضرت مرزا صاحب پر زبان دراز کرنے کی بجائے حضرت مجددالف ثانی " پر زبان دراز کر کے دیکھیں۔حضرت مجددالف ثانی کی محبت تو ایسے دلوں میں بھی جاگزیں ہے جو صبر وضبط نہیں جانتے۔اس لئے ہمیں یہ یقین ہے کہ راشد علی وغیرہ حضرت مجد دالف ثانی پر ہرگز ایسی بیبا کی نہیں کریں گے اور مصلحت آمیز خاموشی کی وجہ سے اپنا جھوٹا اور دوغلہ ہونا ثابت کر دیں گے۔پس اگر ان پیر ومرید کو اسلامی لٹریچر میں کہیں بروز کی اصطلاح دکھائی نہیں دی تو ان کی نظر کا قصور