شیطان کے چیلے — Page 316
315 اعتراض“ کے تحت بھی کی گئی ہے۔اب یہاں بھی دیکھیں، کیا فرماتے ہیں؟ 1 حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ چاچڑاں شریف والے جن کے مرید سرائیکی علاقہ میں کثرت سے موجود ہیں، فرماتے ہیں: وو بروز یہ ہے کہ ایک روح دوسرے اکمل روح سے فیضان حاصل کرتی ہے۔جب اس پر تجلیات کا فیضان ہوتا ہے۔تو وہ اس کا مظہر بن جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میں وہ ہوں۔“ (مقا میں الجالس المعروف بہ اشارات فریدی۔مولف رکن الدین حصہ دوم صح 111 مطوعه منفی عام پریس آگرہ 1321ھ) 2۔دیوبندیوں کے پیرومرشد، مدرسہ دارالعلوم دیو بند کے بانی حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں۔دیا ہے۔66 انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکس محمدی ہے۔“ تحذیر الناس۔از مولانا قاسم نانوتوی صفحہ 53 مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کورنگی کراچی ) اس عبارت میں حضرت مولانا موصوف نے تمام انبیاء کو آنحضرت ﷺ کا حل اور بروز قرار شاہ محمد مبارک علی صاحب نے " خزائن اسرار الکم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم“ میں یہ عنوان باندھا ہے۔اٹھارواں مراقبہ مسئلہ بروز اور تمثل کے بیان میں، جس میں یہ لکھا ہے۔بروز کو تناسخ نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ نہیں ہوتا کہ پرانی روح ایک نئے وجود میں آجائے اسے تناسخ کہا جاتا ہے۔انہوں نے بات کھول دی ہے کہ بروز تناسخ نہیں ہے۔مثال پیش کرتے ہوئے ہم ان کی یہ عبارت من وعن نقل کرتے ہیں۔دیکھئے اس بزرگ کی سوچ کتنی عمدہ اور صاف تھی۔کہتے ہیں کہ بروز کی مراد ایسی ہے جیسے ایلیا کے دوبارہ آنے کا عقیدہ یہودیوں میں رائج تھا۔جب سکئی آگئے تو صفات کے لحاظ سے ایلیا کہلائے۔ایسا ہی عیسی کا نزول ہوگا۔گویا ان کے نزدیک نہ وہی عیسی بدن آخر میں حلول کریں گے۔بلکہ بصورت صفات جلوہ گر ہوں گے اور ان کے نزدیک صفات کی جلوہ گری یہ نہیں کہ وہ تمام صفات میں ہو بلکہ چند صفات کی جلوہ گری بروز بنانے میں کافی ہے۔حتی کہ بعض اوقات ایک صفت کی وجہ سے بروز ہو جاتا ہے۔فرمایا: