شیطان کے چیلے — Page 10
10 فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بايته (الاعراف:38) یعنی بڑے کا فرد وہی ہیں، ایک خدا پر افتراء کرنے والا ہے۔دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔اس صورت میں نہ میں صرف کا فر بلکہ بڑا کا فر ہوا۔اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں مسیح ابن مریم کو ان نبیوں میں دیکھ آیا ہوں جو اس دنیا سے گذر گئے ہیں اور سیکھی شہید کے پاس دوسرے آسمان میں ان کو دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رڈ کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھیرا تا ہے تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے۔اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھیرا کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قَالَتِ الأعْرَابُ امَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات :15) یعنی عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ان سے کہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ہاں یوں کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کر لی ہے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔پس جبکہ خدا اطاعت کر نیوالوں کا نام مومن نہیں رکھتا۔پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیونکر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میں مفتری نہیں اور مومن ہوں۔تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے اور مجھے اکفر ٹھیرا کر اپنے کفر پر مہر لگا دی۔یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر ظالم سے مراد اس جگہ کا فر ہے۔اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم تھہرایا ہے اور بلا شبہ وہ صح و شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کا فرٹھہراتا ہے۔اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔منہ