شیطان کے چیلے — Page 315
314 صلى اللهم جماعت احمد یہ بغیر کسی شک کے قطعی طور پر اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں جہاں جہاں بھی لفظ محمد" ظلی و بروزی طور پر استعمال کیا گیا ہے بعینہ ان معنوں میں ہے، جن معنوں میں آیات مذکورہ میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمد رسول اللہ علے پر اطلاق ہوا ہے۔جس کے معنی تمام شرفاء اور متقیوں کے نزدیک یہ بنتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کامل طور پر اپنے رب میں فنا ہو گئے اور آپ کی اپنی کوئی مرضی نہ رہی۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا۔آپ کی حرکت و سکون کچھ بھی اپنا نہ رہا۔یہ تعلق ایسا کامل ہو گیا تھا کہ آپ نے اپنا سب کچھ خدا میں مٹا دیا۔آپ کا ہر عمل اور ہر ارادہ اس طرح خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو گیا کہ دیکھنے والے کو آپ کے ہر ارادہ میں خدا کا ارادہ دکھائی دینے لگا اور ہر عمل میں خدائی عمل۔پس اسی کامل غلامی کی ایک نہایت ہی حسین تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے آپ کو عبد اللہ کا لقب عطا فر مایا یعنی اللہ کا کامل غلام۔پس جب آقا کا لقب غلام کو عطا ہوتا ہے۔تو نہ ہم مرتبہ بنانے کے لئے ، نہ دو الگ وجود بنانے کے لئے۔بلکہ ان معنوں میں کہ غلام نے کلیہ اپنے آپ کو اپنے آقا میں مٹادیا۔پس عجز بتانے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے، کبر بتانے کے لئے نہیں۔اس مضمون کو ہم اچھی طرح سمجھانے کے بعد اب بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ راشد علی ،عبدالحفیظ اور ان کے ہم فکر معترضین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے ویسی ہی زیادتی کر رہے ہیں جس طرح دشمنانِ اسلام قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے رسول اللہ سے اپنی جو نسبت بیان فرمائی ہے وہ ایک دو جگہ تو نہیں نظم اور نثر کے سینکڑوں صفحات پر پھیلی ہوئی اتنی واضح اور قطعی ہے اور یہ ایک ایسا کھلا کھلا کلام ہے کہ ایک ادنی سی سمجھ رکھنے والا انسان بھی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ہم مرتبہ وجود کے طور پر پیش کیا ہے۔یا آپ سے بھی بڑا ہونے کا کوئی نظریہ پیش کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایسی تحریرات میں جو نظریہ پیش کیا، یا مسیح موعود و مہدی معہود کے جس مقام کے اظہار کے لئے جن اصطلاحات کا استعمال فرمایا ، وہ امت مسلمہ کے مسلمہ عقائد میں سے ہیں اور آئمہ سلف نے بھی آنے والے مسیح و مہدی کے لئے بعینہ انہیں اصطلاحات کا استعمال کر کے اس مسئلہ کو واضح کیا ہے۔اس لئے ایسی تحریرات پر اعتراض اٹھ ہی نہیں سکتا بلکہ اعتراض کرنے والا یقیناً جھوٹا ٹھہرتا ہے۔اس سلسلہ میں کچھ بحث، عنوان 9 " تمام نبیوں کا مظہر ہونے پر