شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 262 of 670

شیطان کے چیلے — Page 262

261 ہ السلام کو فیضیاب فرمایا ہے اور یہ سب فیض حضرت محمد مصطفی ﷺ کے در کی غلامی کا ثمرہ ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ ترا ہے حد ہو سلام اور رحمت اس نور لیا بار خدایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے قدم آگے بڑھایا ہم نے (درمین صفحه 17،16 مطبوعہ لندن۔1996ء) جس طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہ آپ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی معیت نصیب تھی۔جنگ بدر کے موقع پر صحابہ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ ! ہم موسی کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپ کو یہ جواب دیں کہ جا تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔‘ ( بخاری۔کتاب المغازی۔باب قول’ اذتستعیون ربگم معلوم ہوتا ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کو اس واقعہ کا علم نہیں ورنہ یہاں وہ صحابہ پر توہین رسول کا الزام ضرور لگا دیتے کہ انہوں نے نہ صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہونے بلکہ آپ سے آگے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔قارئین کرام ! آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب محاورے ہیں اور پہلو میں کھڑا ہونا تو خدائی صحیفوں کا ایک محاورہ ہے جو ہر گز کسی کو ہم مرتبہ نہیں بناتا۔برابری کے لئے ہم مرتبہ اور ہم پلہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کو اردو محاوروں کا بھی علم نہیں یا پھر یہ جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں کو