شیطان کے چیلے — Page 245
244 پیر عبدالحفیظ نے لکھا ہے۔مرز اصاحب کا دعوی تھا ان کے پاس وحی آتی ہے ! سوال یہ ہے کہ وہ کون فرشتہ تھا جو وحی لاتا تھا اور اس وحی کی حقیقت کیا تھی؟ ٹیچی ٹیچی ، درشانی ، خیراتی اور ایل ان کے بعض فرشتوں کے نام تھے۔“ ( الفتوی نمبر 23) اس مختصر عبارت میں پیر عبدالحفیظ نے جھوٹ بھی بولا ہے اور استہزاء بھی کیا ہے سوال یہ نہیں کہ وہ کون فرشتہ تھا جو وحی لاتا تھا؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا اپنا یہ اقرار ہو کہ ان پر شیطان نازل ہوتا ہے ان کو فرشتوں کے بارہ میں کلام کا کیا حق ہے؟ جس طرح آنحضرت ﷺ نے کفار مکہ کو جب خدائے رحمن کو سجدہ کرنے کے لئے کہا تو وہ سوال کرنے لئے مَا الرَّحمن ؟ (الفرقان : 61) کہ رحمن کیا ہے؟ بعینہ آج اسی طرح یہ لوگ جن پر نازل تو شیطان ہوتا ہے مگر یہ باتیں کرتے ہیں فرشتوں کی اور استفسار کرتے ہیں کہ ” سوال یہ ہے کہ وہ کون فرشتہ تھا ؟“ (1) انہوں نے از راہ استہزاء ایک فرشتہ کا نام نیچی نیچی بتایا ہے۔1 - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی ایسا الہام نہیں۔ایک خواب ضرور ہے جس میں حضور نے ایک آدمی دیکھا جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔اور اس نے اپنا نام ” ٹیچی بتایا۔پنجابی زبان میں ' ٹیچی کے معنے ہیں ” وقت مقررہ پر آنے والا پس اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بروقت امداد فرمائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جو مشکلات لنگر کے اخراجات کی نسبت اس خواب کے دیکھنے سے پہلے در پیش تھیں وہ اس خواب کے بعد جلد ہی دور ہو گئیں۔پس یہ کہنا کہ مرزا صاحب کو نیچی نیچی الہام ہوا حض شرارت ہے۔دوسرے ان کا یہ کہنا کہ وہ فرشتہ تھا۔یہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ وہ فرشتہ تھا۔بلکہ اسے فرشتہ نما انسان قرار دیا ہے، لیکن یہ پیر اور مرید ذرا یہ تو بتائیں کہ کیا فرشتے کانے بھی ہوا کرتے ہیں؟ بخاری میں ہے: عن ابي هريرة رضى الله عنه ارسل ملک الموت الى موسى عليه السلام فلما