شیطان کے چیلے — Page 240
239 جائے۔میرا شوق مجھے بیتاب کر رہا ہے کہ میں ان آسمانی نشانوں کی حضرت عالی قیصرہ ہند میں اطلاع دوں۔میں یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔“ پھر آپ نے اسے یہ بھی لکھا کہ تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحه 272 تا274) کیا خوب ہو کہ جناب کو اس چھپی ہوئی تو ہین پر بھی نظر ڈالنے کے لئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی جاتی ہے۔کیا خوب ہو کہ جناب مدوحہ دنیا کی تمام لغات کے رو سے عموما اور عربی اور عبرانی کے رو سے خصوصاً لفظ لعنت کے مفہوم کی تفتیش کریں۔اور تمام لغات کے فاضلوں کی اس امر کے لئے گواہیاں لیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ملعون صرف اس حالت میں کسی کو کہا جائے گا جب کہ اس کا دل خدا کی معرفت اور محبت اور قرب سے دور پڑ گیا ہو۔اور جبکہ بجائے محبت کے اس کے دل میں خدا کی عداوت پیدا ہوگئی ہو۔اسی وجہ سے لغت عرب میں لعین شیطان کا نام ہے۔پس کس طرح یہ نا پاک نام جو شیطان کے حصہ میں آ گیا۔ایک پاک دل کی طرف منسوب کیا جائے۔میرے مکاشفہ میں مسیح نے اپنی بریت اس سے ظاہر کی ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ مسیح کی شان اس سے برتر ہے۔لعنت کا مفہوم ہمیشہ دل سے تعلق رکھتا ہے۔اور یہ نہایت صاف بات ہے کہ ہم خدا کے مقرب اور پیارے کو کسی تاویل سے ملعون اور لعنتی کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے۔یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے۔جو میں پہنچاتا ہوں۔اس میں میرے سچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان توجہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کی لئے بھی کوئی نشان دکھا دے۔جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو۔بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کر لیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے۔اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہوگا نہ انسان کے ارادہ کے موافق ہاں فوق العادت ہو گا۔اور عظمت الہی اپنے اندر رکھتا ہو گا۔