شیطان کے چیلے — Page 236
235 کو تمیں اکتوبر 1883ء میں پیش آیا تخمینا تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دیدی تھی چنانچہ یہ خبر بعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔خیر یہ سفر تو ہر ایک کو در پیش ہی ہے اور کوئی آگے اور کوئی پیچھے اس مسافر خانہ کو چھوڑنے والا ہے مگر یہ افسوس ایک بڑا افسوس ہے کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہدایت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا کیا مگر وہ با وصف ہر طور کے اعلام کی ہدایت پانے سے بے نصیب گئے۔روشنی کی طرف ان کو بلایا گیا۔مگر انہوں نے کم بخت دنیا کی محبت سے اس روشنی کو قبول نہ کیا اور سر سے پاؤں تک تاریکی میں پھنسے رہے۔ایک بندہ خدا نے بارہا ان کو ان کی بھلائی کے لئے اپنی طرف بلایا مگر انہوں نے اس طرف قدم بھی نہ اٹھایا اور یونہی عمر کو بیجا تعصبوں اور نخوتوں میں ضائع کر کے حباب کی طرح ناپدید ہو گئے۔حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کا اوّل نشانہ وہی تھے اور اسی وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ برادر ہند میں بھی ان کے لئے اعلان چھپوایا گیا تھا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جاملے۔“ یہ اصل روئیداد ہے راشد علی اور اس کے پیر کے پنڈت دیا نند کی۔اسلام کی اس فتح پر اور پنڈت دیا نند کی شکست پر کسی کو صدمہ پہنچتا ہے یا تکلیف ہوتی ہے تو وہ خواہ بھاڑ میں جائے یا جہنم میں ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ہمیں تو یہ خوشی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے آریہ سماج کے مقابل پر اسلام کا بول بالا فر مایا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوؤں کی آریہ سماج اور برہموسماج کی تحریکوں نے ، جو اپنے شباب پر تھیں، اسلام کو اپنے اعتراضات کا نشانا بنایا ہوا تھا۔گویا اسلام دشمنوں کے نرغہ میں گھر کر رہ گیا تھا۔ان سب تحریکوں کا مقصد وحید اسلام کو کچل ڈالنا اور قرآن مجید اور بانی اسلام کی صداقت کو دنیا کی نگاہوں میں مشتبہ کرنا تھا۔آریہ سماج دیدوں کے بعد کسی الہام الہی کی قائل نہ تھی اور برہموسماج والے سرے سے الہام الہی کے منکر تھے۔اور مجر دعقل کو حصول نجات کے لئے کافی خیال کرتے تھے اور تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کے گمراہ گن فلسفہ سے متاثر ہوکر اور عیسائی ملکوں کی ظاہری و مادی ترقیات کو دیکھ کر الہام الہی کے منکر ہورہے تھے اور ان حالات میں علماء کے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ آپس میں تکفیر بازی کی جنگ لڑ رہا تھا۔(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن۔جلد 1 صفحہ 635 تا 641 حاشیہ نمبر 1) اس ماحول میں جب کہ قرآن مجید کی حقیت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت خود مسلمان کہلانے