شیطان کے چیلے — Page 227
226 میں فرمایا ” اِسْمُهُ اِسْمِی“ کہ اس کا نام میرا نام ہے اور فرمایا "رَجُلٌ مِنِی“ کہ وہ میرا آدمی ہے۔پس اس پیشگوئی میں مذکور بچے کی تعبیر بعد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے وجود میں ظہور میں آئی۔چونکہ اس پیشگوئی کی تعبیر کا ظہور صفاتی اور معنوی رنگ میں ہونا مقد رتھا اس لئے بیٹے کی ولادت بھی اس کی صفات اور اس کے اوصاف کے ظہور کے ساتھ مقد تھی۔جیسا کہ صوفیاء نے اس کو ولادت معنوی سے تعبیر کیا ہے۔اس ولادت سے جسمانی طور پر بیٹے کی پیدائش مقصود نہ تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعہ یہ خبر دی تھی کہ وہ کلمہ اللہ اور سلسلہ احمدیہ کی اقبال مندی کا نشان عنقریب اپنی عظیم الشان صفات کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہونے والا ہے۔اس کی موعودہ صفات جو 1906 ء تک دنیا کی نظر سے مخفی تھیں اب ان کے ظہور کا وقت قریب آیا ہے۔چنانچہ 1906ء ہی میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ پسر مسیح موعود یہ السلام نے عملی دنیا میں قدم رکھا اور آپ نے رسالہ تفخیذ الاذہان جاری فرمایا اور پھر کئی کلیدی فرائض سرانجام دیئے 1914ء میں 25 سال کی عمر میں آپ خلیفہ مسیح ہوئے اور اسی سال زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی جنگ عظیم کی صورت میں پوری ہوئی اور پھر پیشگوئی میں جو جو صفاتی نام اس بچہ کے بیان ہوئے تھے ان سب کا ظہور آپ کے وجود میں ہوا اور ان کی تعبیر آپ ہی کی ذات میں جلوہ گر ہوئی۔راشد علی نے یہ بھی استہزاء کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی پوری کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ اس ” بطور نشان لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوئی جو کچھ ہی دنوں بعد مرگئی یہی نہیں بلکہ کچھ عرصے بعد ان خاتوں کا ہی انتقال ہو گیا تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔“ یہ راشد علی کی محض بے با کی ہے۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خواب کا ذکر فرمایا ہے وہاں یہ بھی واضح الفاظ میں تحریر فرمایا کہ ” ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہو گا خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا ممکن ہے کہ جلد ہو یا خدا اس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے۔“ پس در حقیقت پیشگوئی میں نہ منظور محمد سے لازمی طور پر میاں منظور محمد ، مراد تھے اور نہ ہی فوری طور پر بیٹے کی پیدائش کی تعین کی گئی تھی۔