شیطان کے چیلے — Page 226
225 آپ کی اس قطعی عبارت کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر آپ پر منظور محمد کی تعین نہیں فرمائی تھی۔اس حقیقت سے کوئی معقول انسان انکار نہیں کر سکتا کہ الہامات الہیہ میں مذکور امور تعبیر طلب ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تعبیر کے لحاظ سے ” منظور محمد سے ظاہری طور پر پیر منظور محمد صاحب لدھیانوی بھی مراد لئے۔مگر کسی ایک جگہ بھی ان کو الہام الہی کا حتمی مصداق قرار نہیں دیا۔یعنی آپ نے کسی جگہ یہ ضروری قرار نہیں دیا کہ ” منظور محمد“ سے مراد پیر منظور محمد لدھیانوی ہی ہیں بلکہ فرمایا: ممکن ہے کہ بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہو گا۔“ یعنی آپ نے ایک امکانی پہلو کے لحاظ سے میاں منظورمحمد کا نام بطور ایک مصداق کے اس پیشگوئی کی تعبیر میں لیا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک روئی تھی اور رویا ہیہ تعبیر کی محتاج ہوتی ہے۔رویا میں اکثر نام صفات کے اعتبار سے بیان کئے جاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے رویا میں دیکھا کہ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں فرمایا وضعت فی یدی کہ وہ میرے ہاتھ پر رکھی گئیں۔( بخاری کتاب الرؤيا والتعبير باب المفاتيح في اليد ) اب اس موقع پر راشد علی کی سرشت کا انسان تو صاف کہہ دے گا کہ (نعوذ باللہ نعوذ باللہ ) آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی جھوٹی نکلی کیونکہ آپ کے ہاتھ میں وہ چابیاں نہیں آئیں۔جبکہ پیشگوئی کے الفاظ میں آپ کے ہاتھ میں ہی ان چابیوں کا آنامذکور ہے۔ہمارے عرفان کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری شان سے پوری ہوئی۔کیونکہ تعبیر کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آنحضرت ﷺ کا نام صفاتی طور پر دیا گیا تھا اور آپ کو کنجیاں ملنے سے یہ مرا تھی کہ آپ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس زیر بحث رویا میں بھی صفاتی نام ہی مذکور تھا جس کی تعبیر بعد میں یہ ظاہر ہوئی کہ منظور محمد سے مراد صفاتی لحاظ سے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جو اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد ﷺ کے منظور نظر ہیں کیونکہ آپ کو آنحضرت ﷺ نے سلام “ بھیجا آپ ہی کے بارہ