شیطان کے چیلے — Page 215
214 ب: حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ کنعان کی زمین انہیں دی جائے گی۔لیکن اس زمین کے حصول کیلئے آپ کی قوم نے کوشش نہ کی۔یہ ایک ناپسندیدہ امر تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ زمین ان پر چالیس سال کے لئے حرام کر دی گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ يَقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدِّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ “ (المائده: 22) ترجمہ :۔اے میری قوم ! ارضِ مقدسہ ( کنعان ) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ چھوڑی ہے۔یہاں’كتب الله لکم“ کے الفاظ صریحاً پیشگوئی پر دلالت کر رہے ہیں۔مگر قوم نے جواب یہ دیا کہ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ “ (المائده:25) ترجمہ :۔پس جاتو اور تیرا رب دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔اس پر خدا تعالیٰ نے ان پر وہ زمین چالیس سال کے لئے حرام کر دی اور ان کیلئے سرگردان پھرنا مقدر کر دیا۔کیا معترضین کے نزدیک ان کا یہ جواب ایک پسندیدہ امر ہے؟ سچ یہ ہے کہ پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے کوشش نہ کرنا یقیناً ناپسندیدہ امر ہے۔اس کو پورا کرنے کی کوشش کرنا خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور اس کی تقدیر کے رُخ پر چلنے کے مترادف ہے اور یہی سنتِ انبیاء ہے۔پس پیشگوئی پر یہ اعتراض کہ اس کو پورا کرنے کے لئے کوشش کیوں کی ؟ بہر حال ایک ناپسندیدہ سوال ہے۔(2) آتھم کی موت سے متعلق پیشنگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی پر راشد علی وغیرہ کے اعتراض کا مکمل جواب کتاب Three in One میں دیا جا چکا ہے۔اس کے باوجود اس کو پھر پیش کرنا ان کی معقولیت پر نہیں ، اندھی تکذیب میں ہٹ دھرمی پر دلالت کرتا ہے۔اگر تو یہ اس جواب پر علمی طور پر دلائل کے ساتھ بحث کرتے اور یہ ثابت کرتے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو ایسی صورت میں ہم علمی دلائل کے ساتھ اس کا رڈ کرتے۔چونکہ