شیطان کے چیلے — Page 214
213 چنانچہ ” تعطیر الا نام میں لکھا ہے: “ وو النكاح في المنام يدلّ على المنصب الجليل“ کہ خواب میں نکاح کسی بڑے منصب کے ملنے پر دلالت کرتا ہے۔نیز اس کے طبرانی اور ابن عسا کرنے ابوامامہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ وو ان رسول الله الله قال لخديجة اما شعرتِ انّ الله زوجنى مريم ابنة عمران و کلثوم اخت موسی و امرأة فرعون قالت هنيئاً لک یا رسول الله“ ( تفسیر فتح البیان۔جلد 7 صفحہ 100۔مطبوعہ دارالفکر العربی ) ترجمہ:۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرا نکاح ( حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ) مریم بنت عمران، موسیٰ علیہ السلام کی بہن کلثوم اور فرعون کی بیوی کے ساتھ کر دیا ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو مبارک ہو۔نبی کریم ﷺ کے یہ تینوں نکاح آسمانی تھے جن کی تعبیر اس رنگ میں پوری ہوئی کہ ان عورتوں کے خاندانوں کے بہت سے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی پر ایمان لا کر مرزا احمد بیگ کے خاندان کے بہت سے افراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع میں آگئے جن میں سے بعض کے اسماء پہلے درج کئے جاچکے ہیں۔پس جس خاندان کے ساتھ اس پیشگوئی کا براہ راست تعلق تھا وہ تو اس پیشگوئی کے مصدق ہو گئے مگر دوسرے اس پر محض اپنا بغض ظاہر کر رہے ہیں اور اس پیشگوئی کی آخری شق کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔اعتراض چہارم :۔یہ پیشگوئی الہامی تھی تو نکاح کے لئے حضرت مرزا صاحب نے خطوط وغیرہ کے ذریعہ کوشش کیوں کی ؟ الجواب:۔پیشگوئی کو پورا کرنے کی کوشش کر نا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔مثلاً آنحضرت ﷺ کو جنگ بدر کی فتح کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس کے باوجود آپ نے مقابلہ کے لئے ہر ممکن تیاری اور کوشش بھی کی اور دعا ئیں بھی انتہائی تفرع وابتہال اور گریہ وزاری کے ساتھ کیں۔