شیطان کے چیلے — Page 191
190 تعبیر کا ایک اور رنگ میں ظہور ایک اصل پیشگوئیوں کا یہ بھی ہے کہ کبھی ایک بات دکھائی جاتی ہے مگر وہ پوری کسی اور رنگ میں ہوتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔قال اهل التعبير ان رسول الله الا الله رأى فى المنام أسيد ابن ابى العيص والياً على مكة مسلماً، فمات على الكفر و كانت الرؤيا لولده عتاب اسلم (تاریخ الخمیس - جلد 2 صفحہ 121) ترجمہ :۔اہل تعبیر کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں اسید بن ابی العیص کو مسلمان ہونے کی حالت میں مکہ کا والی دیکھا۔وہ تو کفر پر مر گیا اور رویا اس کے بیٹے عتاب کے حق میں پوری ہوئی جو مسلمان ہو گیا۔اسی طرح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: وو " بينما انا نائم البارحة اذا اتيت مفاتيح خزائن الارض حتى وضعت في يدي قال صلى الله ابوهريرة فذهب رسول الله علم و انتم تنتقلونها “ (بخاری۔کتاب التعبیر۔باب رؤیا الیل ) ترجمہ:۔اس دوران جب کہ میں سورہا تھا مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں۔یہانتک کہ وہ میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ تو تشریف لے گئے اور (اے صحابہ!) اب تم ان خزانوں کو لا رہے ہو۔معزز قارئین! پیشگوئیوں کے بارہ میں ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب پیشگوئیوں پر راشد علی اور اس کے پیر کے اعتراضات کے جواب ملاحظہ فرمائیں۔دراصل پیشگوئیوں کے بارہ میں اصولوں اور معیاروں کو نہ جاننے کے باعث یا ان کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے مکذبین ان پیشگوئیوں کی تکذیب کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ایسا کرنے والے لازما جھوٹے ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام لازما سچا ہوتا ہے۔راشد علی اور اس کے پیر نے بھی اسی ڈگر پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس کلام کی تکذیب کی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں سے ان بے شمار محکم پیشگوئیوں کو نظر انداز کر دیا جو معین اور محکم رنگ میں پوری ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔لیکن گفتی کی چند ایک ایسی پیشگوئیوں کو چن لیا جن کے پورے ہونے کا ابھی زمانہ نہیں آیا یا وہ ان کی کوتاہ سمجھ سے بالا تھیں۔بہر حال وہ پیشگوئیاں جن کی انہوں نے تکذیب کی ، ان کے بارہ