شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page xxi of 670

شیطان کے چیلے — Page xxi

آشنا ہیں کہ یہ نظارہ وَرَأَيْتَ الَّذِيْنَ يَدْخُلُونَ فِى دِینِ اللهِ أَفْوَاجا کے سوا کوئی اور نظارہ نہیں۔پس فتوحات نمایاں تواتر نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا مکاروں کا کار ایسی سرعت سے شہرت ناگہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت کرتی صدق قول کردگار اب گئے خیلے تمہارے کہو کس ہو گئی تحجبت تمام ہوئی اے منکر و لعنت کی مار پر اس صورتحال میں سید عبدالحفیظ اور اس کے مرید راشد علی اور دیگر مخالفین جماعت احمدیہ کے لئے تو قرآن کریم کا یہی پیغام باقی رہ جاتا ہے کہ وَاسْتَفْزِرْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ (بنی اسرائیل : ۵۶ ) کہ جس حد تک تیرا بس چلتا ہے، اپنی آواز سے فریب دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر دیکھ اور بے شک اپنے سواروں کو بھی اور پیادوں کو بھی ان پر چڑھا دے ☆ لیکن سعید فطرت اور سچائی کو قبول کرنے والوں پر تم کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔راشد علی نے مباہلہ ، مباہلہ کی رٹ لگا رکھی ہے۔اس کے ساتھ تو مباہلہ کی ضرورت ہی باقی نہیں کیونکہ وہ اس کے لئے کوالیفائی ہی نہیں کرتا۔وہ خود اقرار کرتا ہے کہ اس پر شیطان نازل بھی ہوتا ہے اور وحی بھی کرتا ہے۔یعنی مباہلہ کی وجہ سے جو عنت جھوٹے پر اترتی ہے وہ پہلے ہی اس پر نازل ہو چکی ہے۔قرآنِ کریم شیطان کو رجیم، اور جس پر وہ نازل ہوتا اسے افاک اور اشیم، قرار دیتا ہے۔مباہلہ مباہلہ کی تکرار کر کے را شد علی اس سے بڑھ کر اور کس دھتکار، پھٹکار اور لعنت کا طلب گار ہے؟ اللہ تعالیٰ بعض اوقات بعض گستاخ مخالفوں کو بھی چھٹی دیتا ہے۔اس کی دو وجوہات ہیں۔☆ ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے