شیطان کے چیلے — Page xx
دیباچه ازل سے یہی مقدر ہے کہ الہی سلسلوں کو ان کے مخالفین کی طرف سے لازماً جھوٹ اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ كَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوّاً شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْر أَن (الانعام :۳۱۱) ترجمہ :۔اور ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر اک نبی کا دشمن بنا دیا تھا ان میں سے بعض بعض کو دھوکا دینے کے لئے (ان کے دل میں ) برے خیال ڈالتے ہیں جو محض ملمع کی بات ہوتی ہے۔شیطان اور اس کے ساتھیوں کی یہ دشمنی اور مخالفت الہی سلسلوں کے لئے کھاد کا کام دیتی ہے اور ان کے لئے ایک طرح کی سرسبزی اور شادابی کی موجب بنتی ہے لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ - وہ لوگ جوسلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخالفت کے میدان میں ان بدنصیبوں کے زمرہ میں داخل ہوئے ہیں جن کا ذکر مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ہے۔اگر وہ اس زمانہ کا جائزہ لیں جو انہوں نے اس خدائی سلسلہ کی مخالفت میں ضائع کیا ہے، تو حقیقت افروز تجزیہ ان کو اس الہی تقدیر کی طرف لے جائے گا جس کا ذکر خدا تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے : أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الانباء: ۵۴)۔۔۔۔ترجمہ:۔کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے جارہے ہیں۔صرف گزشتہ چند سالوں کا جائزہ ہی ہمیں اس حقیقت سے ہمکنار کرتا ہے کہ جماعت احمد یہ ترقیات کے اوج کمال کو پہنچ رہی ہے۔اس کا اقرار جیسا کہ ہر دور میں مخالفین کرتے آئے ہیں، اس دور میں خود راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ” بے لگام کتاب“ میں پانچویں کالم اور احمد یہ مذہبی ٹریڈنگ کارپوریشن کے عنوان کے تحت بھی کیا ہے۔جماعت احمدیہ کے مخالفین، جماعت کی روز افزوں ترقی سے لرزہ براندام ہیں کیونکہ اس دور میں جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد ہزاروں کے حساب سے نکل کر لاکھوں میں سے ہوتی ہوئی کروڑوں کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے۔وہ اس حقیقت سے بھی