شیطان کے چیلے — Page 105
104 جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت وفصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں۔دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا۔اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آئے تو مجھے غالب پائے گی۔( ایضا صفحہ 406) (ن) اس عبارت پر حاشیہ میں لکھتے ہیں : ” مہوتسو کے جلسہ میں بھی اس کا امتحان ہو چکا ہے۔“ (ایضاً حاشیہ) (ع) اسی طرح صفحہ 407 پر بھی حقائق و معارف اور نکات اور اسرار شریعت کے الفاظ موجود ہیں۔غرضیکہ ایام اصلح کے مندرجہ بالا اقتباسات سے جو سب کے سب راشد علی کی پیش کردہ عبارت کے ساتھ ملحق ہیں، یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی انسان سے جس چیز کے پڑھنے کی نفی فرمائی ہے۔وہ قرآنی الفاظ نہیں بلکہ حقائق و معارف قرآنیہ ہیں۔حضرت اقدس نے ایام الصلح یا کسی اور کتاب میں ایک جگہ بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ میں نے قرآن مجید ناظرہ بھی کسی شخص سے نہیں پڑھا۔نہ یہ چیلنج دیا ہے کہ میں استاد نہ ہونے کے باوجود قرآن مجید کے الفاظ اچھی طرح پڑھ سکتا ہوں اور یہ کہ فن قرآت میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہاں حضور نے یہ دعوئی فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف ، مطالب اور نکات آپ کے الہام الرحمنُ عَلَّمَ القُرآن “ (تذکرہ صفحہ 44 ایڈیشن سوم ) کے مطابق آپ کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئے اور اس لحاظ سے یقیناً آپ نے قرآنِ مجید کسی انسان سے نہیں پڑھا۔اور اس امر کا دعویٰ آپ نے ایام الصلح ،صفحہ 394 پر بھی کیا ہے۔جس کو معاندین جماعت احمدیہ انتہائی نا انصافی سے بطور اعتراض پیش کر کے ناواقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔و من تلبيسهم قد حرّفوا الالفاظ تفسيراً و قد بانت ضلالتهم ولو القوا معاذيرا نور الحق جلد اول۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 178 ) کہ ان کی ایک تلبیس یہ ہے کہ الفاظ کی تفسیر میں انہوں نے تحریف کر دی ہے اور ان کی گمراہی ظاہر ہو چکی ہے اگر چہ اب عذر بھی پیش کریں۔اس حقیقت کا ثبوت کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنِ کریم کے رموز و معارف محض خدا