شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 98 of 670

شیطان کے چیلے — Page 98

97 اپنے مختلف فولڈرز وغیرہ میں راشد علی بار بار امام جماعت احمد یہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ المسیح الربع ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو مباہلہ کا چیلنج دیتا ہے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ہے: دو مباہلے کا موجودہ چیلنج سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مندرجہ ذیل حدیث پاک کی روشنی میں دیا گیا جس شخص میں چار حصلتیں ہوں گی وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک موجود ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت تو ہے جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے۔ا۔جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔۲۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔۔جب وعدہ کرے تو وعدہ توڑ ڈالے۔۴۔جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔( بخاری ومسلم ) قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم اربع من كن فيه كان منافقاً خالصاً ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها : ا ـ اذا اوتمن خان : ٢ ـ واذا حدث كذب : ٣ـ واذا عاهد غدر : ۴ ـ واذا خاصم فجر (رواه البخارى والمسلم) معزة زقارئین ! مندرجہ بالا حدیث میں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے نہ صرف معیار منافقت مقررفرمایا بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایک عام مسلمان کیسا ہونا چاہئے۔اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب ، بانی جماعت احمدیہ ، منافقت کے کس درجہ میں فٹ ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ مرزا صاحب نبی ورسول مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کے دعویدار تھے۔ان دعووں کی موجودگی میں ان کو کس حد تک جھوٹ بولنے کی یا امانت میں خیانت کرنے کی یا وعدہ خلافی کرنے کی یا اپنے مخالفین کو گالیاں دینے کی اجازت ہونی چاہئے اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ذیل میں میں مرزا صاحب کی زندگی کے دونوں پہلوا جاگر کرنے کی کوشش کروں گا۔قارئین یقینا مرزا صاحب کے ان دعاوی سے واقف ہوں گے جن میں گستاخانہ جسارت کے ساتھ انہوں نے سرکار دو عالم ﷺ کے خل و بروز