شیطان کے چیلے — Page 94
94 وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معالج میجر ڈاکٹر سدرلینڈ پر نیل میڈیکل کالج لاہور نے آپ کی وفات کے سرٹیفکیٹ میں لکھا تھا کہ آپ کی وفات اعصابی اسہال کی بیماری سے ہوئی ہے۔چنانچہ اس وقت جتنے بھی اطبا ء اور ڈاکٹر آپ کے معالج تھے یا آپ کے ارد گرد تھے وہ سب ڈاکٹر سدرلینڈ کی رائے سے متفق تھے کیونکہ اس کے علاوہ سچائی اورتھی ہی کوئی نہیں۔اسی طرح ڈاکٹر سنگھم سول سرجن لاہور نے جوسرٹیفیکیٹ جاری کیا اس میں اس نے تحریراً یہ تصدیق کی کہ مرزا صاحب کی وفات عام اسہال کی شکایت سے ہوئی ہے۔اس اسہال کی وجہ اعصابی کمزوری تھی نہ کہ ہیضہ۔اس پر مزید گواہی کے سامان خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمائے کہ جب آپ کی نعش مبارک ، قادیان لے جانے کے لئے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچی اور گاڑی میں رکھی گئی تو را شد علی اور اس کے پیر کی قماش کے لوگوں نے محض شتر پیدا کرنے کے لئے یہ جھوٹی شکایت اسٹیشن ماسٹر کے پاس کی کہ مرزا صاحب ہیضہ کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔چونکہ ہیضہ کی وبائی مرض کی وجہ سے وفات پانے والے کو دوسرے شہر لے جانا قانو نامنع تھا اس لئے اسٹیشن ماسٹر نے نعش بھجوانے سے انکار کر دیا۔اس پر آپ کے ایک صحابی ، شیخ رحمت اللہ صاحب نے سول سرجن کا سرٹیفیکیٹ دکھایا تو پھر اسٹیشن ماسٹر کو حقیقت حال کا علم ہوا کہ یہ شکایت کرنے والے کہ حضرت مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے، جھوٹے ہیں۔چنانچہ اس نے اجازت دی اور آپ کی نعش مبارک قادیان لائی گئی۔یہ سب واقعات تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 562 پر تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔پس بیماری کی کیفیت ، علاج ، وفات اور پھر بعد کے تمام واقعات راشد علی اور اس کے پیر کے جھوٹ کوطشت از بام کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ایک طبعی موت تھی جس میں کوئی غیر طبعی عوامل کارفرما نہیں تھے۔آخری الفاظ را شد علی اور اس کے پیر نے ایک اختراع یہ بھی کی ہے کہ وو مرتے وقت کلمہ تک نصیب نہ ہو سکا۔زبان سے جو آخری الفاظ نکلے وہ یہ تھے۔” میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“