شیطان کے چیلے — Page 93
93 ہے۔حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی صرف ایک روایت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکڈ مین ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ گویا آپ کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے دعوی میں صادق نہ تھے۔حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وبائی ہیضہ ہوگیا تھا بالکل غلط بات ہے۔اس فقرے کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر صاحب سے استفسار کیا کہ ” مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے؟“ اور محض پوچھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ واقعہ وہ بات ہو بھی گئی ہو۔ایسی حالت میں جبکہ اعصابی کمزوری ہو اور اس کی وجہ سے اسہال کی مرض بھی لاحق ہو تو نقاہت بے حد بڑھ جاتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے حالت دگرگوں ہو تو متاثر شخص سے یہ توقع رکھنا کہ اس کے ذہن میں ایک صحت مند شخص کے صحت مند ذہن کی طرح ہر بات پوری تفصیلات کے ساتھ متحضر ہو، انصاف کے خلاف ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ پر بھی ایک مرض کی وجہ سے ایسا وقت آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔انه ليخيل اليه انه يفعل الشّى وما فعله ( بخاری۔کتاب بدء الخلق۔باب فی ابلیس وجنودہ) ترجمہ :۔آپ کو خیال گذرتا تھا کہ آپ نے گویا کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے ایسا کیا نہ ہوتا تھا۔یہاں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ حضرت امام بخاری اس حدیث کو ابلیس اور اس کے لشکر کے باب میں لائے ہیں۔شاید نظر کشفی میں انہیں ان لوگوں کا علم ہو گیا ہو کہ ابلیس اور اس کے چیلے کون ہیں۔) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ایسے فقرہ پر راشد علی اور اس کے پیر کا بغلیں بجانا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعض بشری عوارض پر مستشرقین نے استہزاء کئے ہیں۔اس فقرے میں وبائی ہیضہ کا ذکر ہے۔جبکہ تاریخی ریکارڈ شاہد ہے کہ اپریل مئی 1908ء میں پنجاب میں یہ و ہاتھی ہی نہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ لاہور میں اس وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی ہیضہ کی کوئی علامت موجود نہ تھی۔اس لئے اس