شیطان کے چیلے — Page 87
87 (5) راشد علی اور اس کے پیر کی مخش گوئی اور پھر الزام راشد علی اور اس کے پیر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلے تکذیب کی ، پھر مخالفت پر اترے، پھر ان کے شیطان نے ان کو مزید ترقی دی تو بیہودہ گوئی اختیار کر گئے اور اب شیطان نے ان کو مزید سانٹالگایا ہے تو یہ شرم وحیا کی جملہ حدود پھلانگتے ہوئے بخش کلامی پر اتر آئے ہیں اور حضرت مسیح پاک علیہ السلام پر نعوذ باللہ نعوذ باللہ زنا کی تہمت لگانے لگے ہیں اور ایسے ہی بہتان حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں۔نعوذ بالله من ذلك ، ولعنة الله على الكاذبين - ہم ان کی فحش کلامی اور بے حیائی کا جواب نہیں دے سکتے۔بس اتنا عرض کرتے ہیں کہ ہر نبی کے دشمن شیطان انسانی شکل میں بھی ضرور پائے جاتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًا شَيَاطِيْنَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ القَوْلِ غُرُورًا (الانعام :113) ترجمہ:۔اور ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر اک نبی کا دشمن بنا دیا تھا ان میں سے بعض بعض کو دھوکہ دینے کے لئے ان کے دل میں برے خیالات ڈالتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اس زمرہ کے راشد علی اور اس کے پیر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ خود اقراری ہی نہیں اصراری بھی ہیں کہ ان پر شیطان نازل ہوتا ہے اور انہیں با قاعدہ پیغام بھی دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الشَّيطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ إِلَى أَوْلِيَتِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ (الانعام:122) کہ شیطان یقینا اپنے دوستوں کے دل میں ایسے خیالات ڈالتے رہتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔اس کلیہ کے تحت ازل سے ہی یہ شیطان انبیاء علیہم السلام پر پخش الزامات لگاتے چلے آئے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام و غیر ہم