شیطان کے چیلے — Page 80
80 سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کو نہ سے دوسرے کو نہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں ، جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے میں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت میں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ حالت جاتی رہی۔صبح میں نے اس واقعہ کا حضور علیہ السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہے۔کیا حضور کوکوئی تکلیف تھی یا در دگردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ” میں فتح دین کیا تم اس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آ رہی ہیں ان کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔“ (سیرت المہدی۔حصہ سوم۔صفحہ 29 روایت 516) اسی طرح اگر کوئی اسلام یا بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے خلاف یاوہ گوئی کرتا تو آپ کی روح تڑپ اٹھتی تھی چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔جن دنوں میں وہ موذی اور خبیث کتاب ” امہات المومنین، جس میں بجز دلآزاری کے اور کوئی معقول بات نہیں ، چھپ کر آئی ہے، اس قدر صدمہ اس کے دیکھنے سے آپ کو ہوا کہ زبانی فرمایا کہ ہمارا آرام تلخ ہو گیا ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعو علیہ اسلام مروا عبدالکریم سیالکوٹ رضی الله عن) صلى الله یہ درد اور یہ زخم تھے جو آپ کو اسلام اور حضرت بانی اسلام ﷺ پر اٹھنے والے ہر اعتراض پر پہنچتے تھے اور اس کی جوابی کاروائی کے لئے آپ کو بے چین کر دیتے تھے۔لہذا دن رات علمی کام اور دماغی محنت میں مصروف رہتے تھے چنانچہ سالہا سال کی مسلسل اور انتھک محنت نے آپ کو سر درد اور دورانِ سر کی امراض میں مبتلا کر دیا تھا چنانچہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ والی روایت، جس کو بعض لوگوں نے ہدف اعتراض بنایا ہے، میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ امراض، دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے تھیں۔چونکہ یہ دفاع اسلام اور ناموس رسول کی حفاظت کی وجہ سے تھیں اس لئے یہ بیماریاں ہر گز عیب کا موجب نہیں ہوسکتیں۔یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی خوبیوں کو روشن کرتی ہیں جن کی نظیر امت میں