شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 74 of 670

شیطان کے چیلے — Page 74

74 تسلیم کیا ہے۔بلکہ اس واقعہ کا ذکر صرف یہ بتانے کے لئے کیا گیا ہے کہ انبیاء پر ہمیشہ جھوٹے الزام لگا کرتے ہیں اور ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔بدقسمتی سے بعض مسلمان مفسرین نے خود اس واقعہ کو تسلیم کر لیا ہے اور پھر با قاعدہ اس چوری کی چھان بین بھی شروع کر دی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا چوری کی ہوگی۔مختلف تفاسیر میں جن میں سے مثلاً تفسیر جلالین زیر آیت فَقَد سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ - (يف:78) تفسیر الخازن الجزء ثالث زیر آیت فَقَد سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قبل۔اس طرح تفسیر فتح القدیر او تفسیر روح المعانی ، میں بھی اس آیت کے تابع حضرت یوسف علیہ السلام کی فرضی چوری کی جستجو کی گئی ہے۔ان سب مفسرین میں یہ اختلاف ہے کہ کیا چیز چوری کی تھی؟ لیکن ان سب کا اس پر بہر حال اتفاق ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک حضرت یوسف چور تھے اور پھر خدا کے نبی بھی بنے۔حیرت ہے کہ باوجود اس چوری کے اقرار کے نہ ان کے دین کو کوئی خطرہ ہوا اور نہ عالم اسلام کو۔اب دیکھئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی چوری سے متعلق کیا کیا اختلافات ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ سونے کا بت تھا بعض کہتے ہیں کہ مرغی تھی۔بعض کہتے ہیں کہ نہیں اتنی بڑی چیز نہیں تھی ، انڈا تھا مرغی نہیں تھی۔بعض کہتے ہیں کہ کھانا چرایا تھا لیکن فقیروں کو دینے لئے چرایا تھا۔الغرض یہ لوگ پہلے انبیاء کے متعلق ایسی ظالمانہ باتیں تسلیم کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی نبوت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں سمجھتے تو ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جھوٹا الزام لگانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کردار کا تعلق ہے۔سیالکوٹ کے زمانہ میں ،جس کا اس الزام میں ذکر کیا گیا ہے مولوی ظفر علی خان کے والد محترم منشی سراج الدین صاحب کی گواہی سنئے۔وہ آپ کو اس زمانہ میں جانتے تھے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبارِ ملازمت کے بعد ( یعنی آپ نے سیالکوٹ میں ملازمت کی تھی) ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا عوام سے کم ملتے تھے، ( اخبار زمیندار مئی 1908 ء بحوالہ بدر 25 جون 1908 صفحہ 13 ) مولوی محمد حسین بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اول المخالفین تھے، آپ کے بارہ میں یہ گواہی دیتے ہیں۔