شیطان کے چیلے — Page 577
574 تناقض ہے نہ تضاد۔اور نہ ہی ان عبارتوں سے کوئی ایسا نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان امور کی بابت حقیقت کا علم نہ تھا۔پس غلطی الیاس ستار نے خود کھائی ہے اور وہ ان زیر بحث تحریروں میں خود الجھا ہے اور حقیقت حال سمجھنے سے قاصر رہا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور ان کی وفات کے جملہ، حالات و حقائق اور اسرار کی طرف خدا تعالیٰ نے خودحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راہنمائی فرمائی تھی۔اس سلسلہ میں اس نے جہاں آپ کے مطالعہ تحقیق میں بیحد وسعت عطا کی تھی ، وہاں اس کی وحی بھی آپ کی اصل راہنما تھی۔نیز اس زمانہ میں آپ کو کتابوں اور تحقیق کے وسائل تک بھی خدا تعالیٰ نے غیر معمولی رسائی عطا فرمائی تھی۔یہاں الیاس ستار نے بالکل بجا لکھا ہے کہ ” جس دلیل میں اللہ کی مدد شامل ہو کیا وہ دلیل غلط ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ سے غلطی نہیں ہوتی۔“ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر فرمودہ عبارتوں میں کوئی غلطی نہیں ہے۔اور نہ ہی آپ کو اس بارہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام تھا۔لیکن قبل اس کے کہ ہم اس بحث کی طرف چلیں ، ایک بار پھر عود کر اپنے گزشتہ بیان کی طرف آتے ہیں کہ اگر اس بنیاد پر کسی تحریر میں تضاد ثابت کیا جائے جس بنیاد پر الیاس ستار نے کیا ہے تو اس سے قرآن کریم اور احادیث نبوی جیسی کتب بھی محفوظ نہیں رہتیں مثلاً (۱) قرآن مجید کی رو سے بحالت روزہ بیوی سے مباشرت ممنوع ہے۔مگر بخاری، مسلم اور مشکوۃ ، تینوں میں حضرت عائشہ کی مندرجہ ذیل روایت ہے: عن عائشة رضى الله عنها قالت كان النبى الله يقبل و يباشر وهو صائم وكان املككم لاربه “ 66 ( بخاری کتاب الصوم باب المباشرة للصائم۔مشکوۃ۔کتاب الصوم - باب تنزیہ الصوم - مطبع اصبح المطابع ) ترجمہ :۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت اللہ روزہ میں ازواج کے بوسے لے لیا کرتے تھے۔اور ان سے مباشرت کرتے تھے۔اس حالت میں کہ آپ کا روزہ ہوتا تھا۔مگر آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قا بو رکھتے تھے۔اب کیا قرآن کریم کے حکم لَا تُبَاشِرُوهُنَّ (البقرة: 188) کومندرجہ بالا روایت کے