شیطان کے چیلے — Page 273
272 تھے آپ نے اپنی تصنیف ” اقتباس الانوار میں آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین اور اولیائے کرام کے حالات درج کئے ہیں۔اور تصوّف کے مسائل بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی روحانی تا شیرات کا ذکر فرمایا ہے۔بعثت ثانیہ کا ذکر ہے اور آنے والے موعود کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا حل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔(1) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی جو کہ بارہویں صدی ہجری کے مجد دتھے ، فرماتے ہیں : اعظم الانبياء شانامن له نوع اخر من البعث ايضاً وذلك ان يكون مراد الله تعالى فيه ان يكون سبباً لخروج الناس من الظلمات الى النوروان يكون قومه خير امة اخرجت للناس فيكون بعثه يتناول بعثاً اخر “ (حجۃ اللہ البالغہ۔جلد اول۔باب حقیقۃ النبوۃ وخواصها۔صفحہ 83 مطبوعہ مصر 128ھ ) یعنی شان میں سب سے بڑا نبی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی بعثت بھی ہوگی اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کی ، دوسری بعثت میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو لہذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری بعثت کو بھی لئے ہوئے ہوگی۔“ ہیں: اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بروز حقیقی کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے امـا الـحـقـيـقـي فعلى ضروب۔۔۔۔۔۔۔وتارةً اخرى بان تشتبك بحقيقة رجل من آله او المتوسلين اليه كما وقع لنبينا بالنسبة الى ظهور المهدى “ تفہیمات الہیہ۔جزو ثانی تفہیم نمبر 228 صفحہ 198، مطبوعہ مدینہ برقی پریس۔بجنور 1936ء) یعنی حقیقی بروز کی کئی اقسام ہیں۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کی مہدی سے تعلق میں۔اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔یعنی مہدی آنحضرت ﷺ کا حقیقی بروز ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب ” الخير الكثير “ میں فرماتے ہیں: "حق له ان ينعكس فيه انوار سيّد المرسلين صلى الله عليه وسلّم ويزعم العامة انّه اذا نزل الى الارض كان واحداً من الامة كلاً بل هو شرح للاسم الجامع المحمّدى ونسخةً