شیطان کے چیلے — Page 198
197 اس پیشگوئی کا حقیقی محور تھا۔جب تک شرط قائم رہی خدا تعالیٰ کی تقدیر قہری رنگ میں پوری ہوئی اور مرزا احمد بیگ اس کا نشانہ بنا۔اس سے عبرت حاصل کر کے رجوع الی اللہ کرنے والوں پر خدا تعالیٰ کی تقدیر عفو جاری ہوئی۔لاتبديل لكلمات اللہ کا یہی معنی ہے کہ جب کوئی تو بہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اس کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس کو معاف کرتا ہے۔اس کی اس تقدیر میں تبدیلی نہیں ہوتی۔پس اس خاندان کی تو بہ اور رجوع الی اللہ سے خدا تعالیٰ کے نہ تبدیل ہونے والے کلمات قائم رہے اور اس پیشگوئی کا مقصود پورا ہو گیا۔اور اس کے دوسرے حصے جو مشروط تھے وہ ٹل گئے۔چونکہ محمدی بیگم کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف واپسی عدم تو بہ کی شرط سے مشروط تھی اور یہ واپسی اس کے خاوند کے مرنے اور محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کے بعد ہی ممکن تھی اس لئے پیشگوئی میں اس سے نکاح کی شق غیر مشروط نہ تھی۔جب اس کے خاوند نے شرط توبہ سے فائدہ اٹھایا تو خدا تعالیٰ کے عفو کے تحت آکر موت سے بچ گیا۔اسی وجہ سے نکاح جو اس کی موت سے معلق اور مشروط تھا وہ ضروری الوقوع نہ رہا۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہ اجمالی نقشہ ہے۔جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، میعاد کے اندر مرزا سلطان محمد کی موت نہ ہونے کا سبب اس کی تو بہ اور رجوع الی اللہ تھا۔الہی قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وعید کی پیشگوئی، خواہ اس میں شرط کا بیان نہ بھی ہو، ہمیشہ عدم تو بہ کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔لہذا وہ لا ز ما تو بہ اور رجوع سے مل جاتی ہے۔لیکن جہانتک اس پیشگوئی کا تعلق ہے، اس میں خدا تعالیٰ نے تو بہ کی شرط بیان فرما دی تھی۔اس لئے محمدی بیگم کے خاوند کی تو بہ اور رجوع الی سے نکاح والی شق مل کر کالعدم ہو گئی۔پس خدا تعالیٰ کے الہامات پر کسی شخص کو یہ اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کہ نکاح کیوں وقوع میں نہ آیا۔مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کی میعاد میں اختلاف کی حکمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا احمد بیگ کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ آخر المصائب موتک تموت الى ثلاث سنين بل موتک قریب 66 آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن۔جلد 5 صفحہ 375)