شیطان کے چیلے — Page 190
189 اس قسم اخیر از قضائے معلق نیز احتمال تبدیل دارد در رنگ قسم اول۔“ مکتوبات جلد اوّل صفحہ 224۔مطبع منشی نول کشور لکھنو ) ترجمہ : ” قضائے معلق کی دو قسمیں ہیں۔ایک قضائے معلق وہ ہے کہ جس کا معلق ہونا لوحِ محفوظ میں ظاہر کر دیا گیا ہوتا ہے۔اور فرشتوں کو اس ( تعلیق) پر اطلاع دیدی جاتی ہے۔اور ایک قضائے معلق وہ ہے جس کا معلق ہونا صرف خدا تعالیٰ جل شانہ ہی جانتا ہے۔اور لوحِ محفوظ میں وہ قضائے مبرم کی صورت میں ہوتی ہے۔یہ آخری قسم قضائے معلق کی بھی (جو صورۃ مبرم ہوتی ہے ) پہلی قسم کی قضا کی طرح تبدیلی کا احتمال رکھتی ہے۔“ حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ اس جگہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ایک واقعہ اور جبریل علیہ السلام کی پیشگوئی درج کرتے ہیں جس میں ایک شخص کی موت کی خبر دی گئی تھی مگر صدقہ دینے کی وجہ سے بچ گیا۔وو اسی طرح کا ایک واقعہ تفسیر روح البیان میں بھی درج ہے کہ (مکتوبات۔جلد اوّل صفحہ 232) ان قصارًا مرّ على عيسى عليه السلام مع جماعة من الحواريين فقال لهم عيسى احضروا جنازة هذا الرجل وقت الظهر فلم يمت هذا القصار فقال نعم ولكن تصدق بعد ذلک ثلاثة ارغفة فنجا من الموت ( تفسیر روح البیان جلد 1 صفحہ 257 مطبوعہ دار الفكر العربي ) ترجمہ : ” ایک دھوبی حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا جب کہ ایک حواریوں کی جماعت ان کے پاس تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں سے کہا کہ اس آدمی کے جنازہ پر ظہر کے وقت حاضر ہو جانا۔لیکن وہ نہ مرا تو جبریل نازل ہوا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اسے کہا۔کیا تو نے مجھے اس دھوبی کی موت کی خبر نہ دی تھی ؟ جبریل نے کہا۔ہاں لیکن اس نے تین روٹیاں صدقہ میں دے دیں تو موت سے نجات پا گیا۔“ پس جیسا کہ احادیث میں آیا ہے صدقہ و دعا سے مبرم تقدیر بھی مل جاتی ہے۔یہ وہی مبرم تقدیر ہوتی ہے جو دراصل تو معلق ہوتی ہے لیکن ملہم اسے مبرم سمجھتا ہے کیونکہ اس پر اس کے معلق ہونے کی وضاحت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوئی ہوتی۔