شیطان کے چیلے — Page 174
173 علی وجہ الکمال ثابت ہونا۔تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے۔کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 285 حاشیہ 11) اسی طرح آپ یہ بھی فرماتے ہیں : وو وہ خاتم الانبیاء بنے۔مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا۔اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونالازمی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 29، 30 ) مولا نا محمد قاسم نانوتوی کے نواسے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند فرماتے ہیں: " حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی بلکہ نبوت بخشی بھی نکلتی ہے کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا فرد آپ کے سامنے آ گیا نبی ہو گیا۔(آفتاب نبوت۔صفحہ 109 ناشر دار اسلامیات لاہور ) نیز آپ نے فرمایا: وو اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ گوا فاضئہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 100 حاشیہ ) (۲) جناب مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی ” شیخ الاسلام پاکستان لکھتے ہیں : وو بدیں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپ کی مہر لگ کر ملی ہے۔" ( قرآن مجید مترجم - علامہ عثمانی زیر آیت خاتم النبین ) ان اقتباسات سے راشد علی کا جھوٹ دو طرح سے طشت از بام ہوتا ہے۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف مستقبل کے نبی کے لئے آنحضرت ﷺ کی مہر تصدیق کا کام کرے گی۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ پہلے سب انبیاء کی صداقت اور ان کی تعلیمات کی