شیطان کے چیلے — Page 122
121 (1) گستاخ رسول و قرآن متنصر مولویوں کا غیرت مند ہم مشرب را شد علی، متنقر ( یعنی عیسائیت قبول کرنے والے) مولویوں کا دفاع کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھتا ہے۔وو اسی طرح ایک دفعہ کتاب ” نور الحق (روحانی خزائن جلد 8) میں لعنت لکھنے بیٹھے تو افیون کی پینک میں ایک ہزار بار لعنت لعنت لعنت لکھتے رہے ( جیسے گراموفون کی سوئی اٹک جاتی ہے )۔وہ کس قسم کی ذہنیت کا انسان ہو سکتا ہے کہ کتاب کے ساڑھے چار صفحات کو با قاعدہ نمبر ڈال کر لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت سیاہ کرتا رہے؟ ( بے لگام کتاب) بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” نور الحق“ کے جو صفحات اس نے پیش کئے ہیں اور ان میں مذکور جس لعنت کو اس نے ہرزہ سرائی کا نشانہ اور ہدف اعتراض بنایا ہے وہ صرف اور صرف ان بد بخت ملعون مولویوں کے لئے مخصوص تھی جو اسلام ترک کر کے عیسائی ہو چکے تھے، وہ قرآن کریم پر حملے کرتے تھے ، اور آنحضرت ﷺ کی شان میں صرف گستاخیاں ہی نہیں کرتے تھے بلکہ (نعوذ باللہ ) آپ کو گالیاں بھی دیتے تھے۔ان ملعونوں کو دعوت مقابلہ دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: واوّل مـخـاطبـنـا في هذه الدعوة ومدعونا لهذه المعركة صاحب التوزين عماد الدين فـانـه يـنـكـر بلاغة القرآن وفصاحته ويرى فى كل كتاب وقاحته ويقول اني عالم جليل ذهين وان القرآن ليس بفصيح بل ليس بصحيح وما ارى فيه بلاغة ولا اجد براعة كما هو زعم الزاعمين ويقول اني ساكتب تفسيره و كذلك نسمع تقاريره فهو يدعى كماله في العربية ويسب رسول الله صلى الله عليه وسلم بكمال الوقاحة والفرية ويتزرّى على كتاب الله وعلى فصاحته كانه عمّ امرء القيس او ابن خالته ويسمّى نفسه مولوياً ويمشى كالمستكبرين “