شیطان کے چیلے — Page 107
106 جسے جماعت احمدیہ کے صدر دفتر واقع لندن سے شائع کیا گیا ہے۔) ہیں: مگر آیا یہ ڈھٹائی کی انتہا تھی یا مرزا صاحب کی پیغمبر آ نہ شان کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے دیباچہ میں فرماتے یہ وہی براہین احمدیہ ہے کہ جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں۔بعد اس کے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا۔اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“ (روحانی خزائن جلد 12 صفحه 9) سبحان اللہ ! کیا حساب ہے۔پچاس کا وعدہ بھی پورا ہو گیا اور پیسے بھی ہضم ! کیا یہی مرزائی پیغمبر آنہ معیار دیانتداری ہے؟ نقطوں کا یہ ہیر پھیر قادیانی تحریک کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔کیوں نہ ہو آ خر ان کے پیغمبر کی سنت جو ہوئی۔غالبا یہ اسی قسم کے نقطوں کی ہیرا پھیری کا کمال ہے کہ مرزا طاہر احمد ہر سال دس سے پچاس لاکھ افراد کی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا دعوی کر کے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں اپنے پیروکاروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔“ دو اپنی اس تحریر میں راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وعدہ خلافی “ اور ” امانت میں خیانت کا الزام لگایا ہے نیز ” پچاس اور پانچ پر بھی زبان استہزا دراز کی ہے اور ہر سال جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والوں کی کثرت پر بھی طعن کیا ہے۔ذیل میں ان امورکارڈ ملاحظہ فرمائیں۔ا۔وعدہ خلافی وعدہ خلافی کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا ارادہ تو فی الواقع تین سو دلائل و براہین احمدیہ نامی کتاب ہی میں لکھنے کا تھا۔مگر ابھی چار حصے لکھنے پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرما دیا۔اور تالیف و تصنیف سے زیادہ عظیم الشان کام کی طرف متوجہ کر دیا۔اس لئے حضور کو مجبوراً محض ” براہین احمدیہ کی تالیف کا کام چھوڑنا پڑا۔اور یہ بات اہلِ اسلام کے ہاں مسلم ہے کہ حالات کے تبدیل ہونے کے ساتھ وعدہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبدیلی حالات کا ذکر وو براہین احمدیہ کے حصہ چہارم کے آخری صفحہ پر بعنوان ” ہم اور ہماری کتاب“ صاف لکھا کہ ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی نا گہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ