شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 103 of 670

شیطان کے چیلے — Page 103

102 ذکر فرمایا ہے کہ میری چھ سات سال کی عمر میں میرے والد صاحب نے میرے لئے ایک استاد مقرر کیا۔جن سے میں نے قرآن مجید پڑھا۔ایک ادنی سمجھ والا انسان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ چھ سات سال کے عرصہ میں بچہ قرآن مجید کے معانی و مطالب اور حقائق و معارف سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔پس یہ امرتسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد بزرگوار نے چھ سات سال کی عمر کے بچہ کو معارف قرآنیہ سکھانے کے لئے ایک استاد مقرر کیا ہو۔پس اس عبارت میں چھ سات سال کی عمر کا قرینہ ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ حضور نے اس حوالہ میں قرآن مجید کے مجر دالفاظ کا استاد سے پڑھنا تسلیم فرمایا ہے۔مگر حضور کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کے معانی و مطالب بھی حضور نے خدا تعالیٰ کے سوا کسی استاد سے پڑھے ہوں۔اس کے بالمقابل راشد علی کی پیش کردہ عبارت از ایام الصلح ، (روحانی خزائن جلد 14 صفحه 394) میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لفظوں میں یہ فرمایا ہے کہ علم دین اور اسرار دین کے لحاظ سے قرآن مجید کسی سے نہیں پڑھا۔اور یہ حقیقت ہے جس کی نفی کسی دوسری عبارت میں نہیں کی گئی۔اس امر کے ثبوت میں کہ ایام الصلح کی عبارت میں قرآن مجید کے الفاظ کا ذکر نہیں۔بلکہ قرآن مجید کے معانی ومطالب کے کسی انسان سے سیکھنے کی نفی ہے۔ہم ایام الصلح “ کی عبارت کا سیاق وسباق اور اس کا مضمون دیکھتے ہیں۔ایام الصلح کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس موقع پر 6 66 اپنے دعویٰ مہدویت کی صداقت کے دلائل کے ضمن میں ایک دلیل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔(0) آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے سو اس میں یہی اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگر دنہیں ہوگا۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی خیال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی شخص سے میں نے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ مجھ پر کھولے گئے۔“ ( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394) وو () اس مضمون پر بحث کرتے ہوئے ذرا آگے چل کر فرماتے ہیں:۔مہدویت سے مراد وہ بے انتہا معارف الہیہ اور علوم حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت کو بغیر واسطه کسی استاد کے علم دین کے متعلق سکھائے گئے۔“ ( تیام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 396)