شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 95 of 670

شیطان کے چیلے — Page 95

95 دیتے ہیں۔میدان دونوں کا جھوٹ ہے۔یہ خود بخود ایک جھوٹ تراشتے ہیں اور اسے بڑی بے شرمی سے پیش کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت کے تمام حالات اور لح لمحہ کی تفصیلات جماعتِ احمدیہ کی کتب میں درج ہیں جو راشد علی اور اس کے پیر کو پرلے درجہ کا جھوٹا اور فریبی ثابت کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی کیفیات کی تفصیل لکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان تین لفظوں میں محدود تھا۔اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔اللہ ! میرے پیارے الله صبح کی نماز کا وقت ہوا تو اس وقت جبکہ خاکسار موقف ( یعنی حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ ) بھی پاس کھڑا تھا۔نحیف آواز میں دریافت فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ وو ایک خادم نے عرض کیا ہاں حضور ہو گیا ہے۔اس پر آپ نے بستر کے ساتھ دونوں ہاتھ تیم کے رنگ میں چھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیت باندھی مگر اسی دوران بیہوشی کی حالت ہوگئی۔جب ذرا ہوش آیا تو پھر پوچھا " کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کیا گیا ہاں حضور ہو گیا ہے پھر دوبارہ نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس کے بعد نیم بیہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب ہوش آتا تھا وہی الفاظ۔وو اللہ ! میرے پیارے الله سنائی دیتے تھے۔آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب جاودانی کی خدمت میں پہنچ گئی۔انا لله وانا اليه راجعون۔( سلسلہ احمدیہ صفحہ 183، 184 مطبوعہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان 1939ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن میں دیکھ کر آپ کے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ زمینی نہیں بلکہ آسانی ہے یعنی آپ کی ابتداء بھی خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت کے سایہ میں تھی ، باقی زندگی بھی جیسا