شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page iii
شوری کی سب باتوں کی بلا تفریق پوری طرح پابندی کریں ” میں نے شادی بیاہ کی رسموں کے بارہ میں اپنے 15 جنوری 2010 کے خطبہ جمعہ میں جن امور کا ذکر کیا تھا ان کی پابندی کروائیں۔مہندی کی رسمیں گھر کی چار دیواری میں سہیلیوں کی حد تک کرنے کی جو اجازت میں نے دی ہے اس میں ہر جگہ یہ مدنظر رہے کہ آواز میں اتنی زیادہ اونچی نہ ہوں کہ گھر سے باہر نکلیں۔مجھے پتہ چلا ہے کہ آجکل ڈیک بھی اس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔شادی بیاہ کے گیتوں وغیرہ کے لئے کوئی ساؤنڈ سسٹم استعمال نہیں ہونا چاہیے۔گھر سے آواز باہر نہیں نکلنی چاہیے۔اسی طرح روشنیوں کا بھی بلا وجہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔بعض دوسری بد رسوم جیسے دودھ پلانا اور جوتی چھپانا وغیرہ جو ہیں یہ بھی سب ختم کروائیں اور ہر فرد جماعت کو اس بارہ میں متنبہ کر دیں کہ آئندہ اگر مجھے کسی کی بھی ان رسموں کے بارہ میں کوئی شکایت آئی تو اس کے خلاف تعزیری کا روائی ہوگی۔جماعتی عہد یداران بھی میری ان ہدایات کے ذمہ دار ہیں۔اگر کہیں کوئی ایسی شادی ہو تو وہ ان کی پابندی کروائیں ورنہ وہاں سے اٹھ کر آجائیں۔پہلے شوری میں بھی ان امور پر غور و فکر کے بعد سفارشات آتی رہی ہیں لیکن اب ان سب باتوں کی بلا تفریق پوری طرح سے پابندی ضروری ہے اور یہ کام ذیلی تنظیموں کا بھی ہے اور جماعتی نظام کا بھی کہ ہر حال میں بدعات اور بد رسومات سے بچنے کے لئے جماعتی روایات اور ہدایات کی مکمل پابندی کروائیں۔اللہ توفیق دے۔آمین (خط حضور انور بتاریخ 22 جنوری 2010ء)